English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بحریہ ٹائون عملدرآمد کیس کا فیصلہ محفوظ، زایداراضی پر قبضے کا نوٹس ، نئی رپورٹ طلب

القمر

 

اسلام آباد (نمائندہ جسارت)عدالت عظمیٰ نے بحریہ ٹائون عملدرآمد کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا ہیجب کہ بحریہ ٹائون کراچی کے لیے تعین کردہ زمین سے زیادہ زمین پر قبضے کا نوٹس لیتے ہوئے سروے آف پاکستان سے بحریہ ٹاؤن کراچی کی حد بندی سے متعلق نئی رپورٹ طلب کرلی ہے۔ عدالت عظمیٰ نے قرار دیا ہے کہ ہم زمینوں پر قبضوں، بحریہ ٹائون کی جمع شدہ رقم کے حصول کے لیے وفاق اور صوبہ سندھ کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کررہے ہیں، محفوظ شدہ فیصلہ مناسب وقت پر سنایا جائے گا،جس میں تمام نکات کو مد نظر رکھا جائے گا۔ پیر کو جسٹس فیصل عرب کی سربراہی
میں عدالت عظمیٰ کے 3رکنی خصوصی بینچ نے بحریہ ٹاؤن عملدرآمد کیس پر سماعت کی۔ دوران سماعت جسٹس فیصل عرب نے استفسار کیاکہ کیا بحریہ ٹائون نے اقساط جمع کرائی ہیں؟ جس پر بحریہ ٹائون کے وکیل علی ظفر نے عدالت کو بتایا کہ بحریہ ٹائون نے اقساط کے علاوہ ایڈوانس رقم جمع کرائی ہے، عدالت عظمیٰکے اکائونٹ میں 57 ارب سے زائد رقم جمع کرائی گئی ہے حالانکہ بحریہ ٹاؤن نے جولائی 2020ء تک 32 ارب جمع کرانے تھے، ہم نے کووڈ -19 کی صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے درخواست دی ہے کہ ریلیف دیا جائے جس پر جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیے کہ یہ بات قبل از وقت ہے، آپ نے اقساط سے زیادہ رقم ویسے ہی جمع کرائی ہے،سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا پر خبریں آرہی ہیں کہ آپ نے مقررہ زمین سے زیادہ زمین اپنے پاس رکھی ہے،جس پر بحریہ ٹائون کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ ہمیں 16 ہزار8سو 96 ایکڑ زمین الاٹ کی گئی جو مکمل نہیں ملی،سوشل میڈیا پر حقائق پر مبنی بات نہیں کی جاتی، اس پر الگ سے جواب داخل کرائوں گا، سندھ حکومت کو ہدایات دی جائیں کہ ہماری بقیہ زمین ہمیں دی جائے جس پر جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیے کہ کیوں نہ اس معاملے پر سروے کرایا جائے، سپارکو سمیت دیگر اداروں کو حکم دیتے ہیں کہ وہ سروے کریں اوررپورٹ عدالت عظمی میں جمع کرائیں، سروے کرانے سے واضح ہوجائے گا کہ بحریہ ٹاؤن کے پاس کتنی زمین ہے،دیکھنا چاہتے ہیں کہ مقرر کردہ زمین سے زیادہ زمین آپ کے پاس ہے یا نہیں۔ اس دوران اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگر عدالت سروے کرانے کا حکم دیتی ہے تو اس میں وفاقی اداروں کو شامل کیا جائے اوربحریہ ٹائون کی جمع کرائی گئی رقم آرٹیکل 78 کے تحت وفاق کو دی جائے، اس حوالے سے عدالت عظمی میں درخواست پہلے سے جمع کرائی جا چکی ہے۔ دوران سماعت ایڈوکیٹ جنرل سندھ وڈیو لنک کے ذریعے عدالت کے رو برو پیش ہوئے اور موقف اپنایا کہ گزشتہ سماعت پر عدالت عظمیٰ کی طرف سے کمیٹی بنانے کی تجویز دی گئی تھی، اس کمیٹی کی تشکیل پر صوبہ سندھ کو اعتراض ہے، ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے مؤقف اپنایا کہ جب بھی صوبہ اپنی زمین فروخت کرتا ہے تو رقم کنسولیڈیٹڈ اکائونٹ میں جمع ہوتی ہے،کمیٹی میں سیکرٹری پلاننگ کی موجودگی سمجھ سے باہرہے ،کمیٹی میں وفاق کی جانب سے نامزد کردہ شہری پر بھی تحفظات ہیں۔جس پر جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیے کہ اگر شہری کو وفاق کا نمائندہ بنا کر کمیٹی میں شمولیت کا حکم کریں تو فریقین کو کوئی اعتراض تو نہیں ہو گا؟جس پر اٹارنی جنرل اور ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے جسٹس فیصل عرب کی اس بات پر رضامندی کا اظہارکیا۔جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیے کہ آئے روز شرح سود گرتی جارہی ہے، ہماری خواہش ہے کہ بحریہ ٹاؤن سے حاصل ہونے والے پیسے کا درست انداز میں استعمال ہو۔ جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ بحریہ ٹائون کے حوالے سے حاصل شدہ رقم جاری منصوبوں پر استعمال نہیں ہو سکتی،یہ اصول وفاق اور صوبے پر بیک وقت لاگو ہوگا۔جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیے کہ حکومتی سطح پر وفاق اور سندھ میں مسائل چل رہے ہیں، وفاق اور صوبہ آپس کے اختلافات اس مقدمے سے دور رکھیں۔ اس دوران اٹارنی جنرل نے وفاقی حکومت کی جانب سے رقم مانگنے کے بجائے عدالتی کمیٹی کے ذریعے خرچ کرنے کی استدعا کر تے ہوئے کہا کہ عدالت عظمیٰکے سابق جج کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی جائے۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ کمیٹی میں سیکرٹری پلاننگ، چیف سیکرٹری سندھ ، وفاق اور سندھ کے نامزد ایک ایک شہری بھی شامل ہوں۔ اٹارنی جنرل نے مزید کہا کہ تمام رقم سندھ کی ترقی پر شفاف انداز میں خرچ کی جائے۔ اس دوران ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ سندھ کے ترقیاتی کاموں میں وفاق کی مداخلت قبول نہیں۔اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ سندھ حکومت نے بحریہ ٹائون کی رقم کو بجٹ میں وصولیوں کا حصہ بنایا ہے۔جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ سندھ حکومت کے پاس سینٹری ورکرز کو تنخواہ دینے کے پیسے نہیں ہیںلیکن سندھ حکومت بحریہ ٹائون کے پیسے ترقیاتی کاموں کے بجائے گاڑیاں خریدنے پر لگانا چاہتی ہے۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ سندھ حکومت کا شروع سے موقف تھا اسے رقم نہیں چاہیے لیکن بحریہ ٹاؤن سے پیسہ آنا شروع ہوا تو سندھ حکومت رقم مانگنے آگئی،دوران سماعت ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے دلائل دیے کہ ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے سندھ حکومت کو 1.67 ارب دے کر زمین خریدی تھی ،جو بحریہ کو دیدی گئی ہے، ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی بحریہ کو دی گئی 11 ہزار ایکڑ زمین واپس کی جائے جس پر جسٹس فیصل عرب نے ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ عدالت عظمیٰ یہ استدعا پہلے ہی مسترد کر چکی ہے تاہم ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی درخواست پر باقاعدہ حکم جاری کریں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے