English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

اسرائیل کیخلاف یوم احتجاج ،ہزاروں فلسطینی سڑکوں پر

القمر

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک)فلسطین میں اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے کے علاقوں کو ضم کرنے کی سازش کے خلاف ہزاروں شہری سڑکوں پر نکل آئے۔ خبررساں اداروں کے مطابق فلسطینی سیاستدانوں اور دیگر تنظیموں نے بدھ کے روز ’یوم احتجاج ‘منانے کی کال دی تھی۔ غزہ میں بھی فلسطینیوں کے جم غفیر نے گھروں سے باہر نکل کر اسرائیل کی قبضے کی کارروائیوں کے خلاف بھر پور احتجاج کیا۔ مظاہرین میں مردوں کے ساتھ خواتین اور بچوں کی بھی بڑی تعداد شریک تھی۔ فلسطینی شہریوںنے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھارکھے تھے،جن میں اسرائیل مخالف اور فلسطینیوں کے متحد رہنے کے نعرے تحریر کیے گئے تھے۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے فلسطینی رہنماؤں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے صدی کی ڈیل کے عنوان سے نام نہاد امن سمجھوتے کو مسترد کردیا اور صہیونی وزیر اعظم نیتن یاہو کی جانب سے مقبوضہ علاقوں کے ضم کرنے کے اعلان کو ٹرمپ کی سازش کا چربہ قرار دیا۔ مظاہرین نے اسرائیل کو غیر قانون اور ناجائز ریاست قرار دے کر فوراً فلسطینی سرزمین سے نکل جانے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے مئی میں فلسطینی صدر محمود عباس اور تل ابیب حکومت کے درمیان روابط پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے فلسطینی اتھارٹی پر زور دیا کہ وہ فی الفور اسرائیل سے تمام تعلقات ختم کرے۔ ادھر غزہ کے عوام 13 برس سے اسرائیلی ناکابندیوں کا سامنا کررہے ہیں۔ صہیونی حکومت نے غزہ میں آمد و رفت کو روکنے کے لیے بری، بحری اور فضائی راستوں پر پابندیاں عائد کررکھی ہیں،جب کہ مصر بھی اپنی سرحد سے فلسطینیوں کو گزرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ دوسری جانب بدھ کو یوم احتجاج منانے کی کال پر جنوبی افریقا کے قصبے ساندتون میں امریکی قونصل خانے کے سامنے اسرائیل کے خلاف مظاہرے کیے گئے۔ ادھر اسرائیلی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ غرب اردن کو اسرائیل کے ساتھ ضم کرنے کے اقدام پر عمل ہونا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ قبل ازیں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا تھا کہ وہ غرب اردن سے متعلق اپنے اس متنازع منصوبے کو یکم جولائی سے نافذ کریں گے۔ تاہم انہیں حکومت میں شامل حلیف جماعتوں کی جانب سے تحفظات کا سامنا ہے ، جس کے باعث منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کی راہ میں رکاوٹ آرہی ہے۔ مخلوط حکومت میں شامل بلو اینڈ وائٹ پارٹی کے سربراہ بینی گینٹس پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اس معاملے میں جلد بازی کی کوئی ضرورت نہیں اور اسرائیل کو اس وقت اپنی تمام تر توجہ کورونا کے بحران پر دینی چاہیے۔ ادھر اقوام متحدہ، یورپی یونین اور عرب ممالک کی جانب سے صہیونی حکومت کے فیصلے کے خلاف سخت رد عمل دیا جارہا، تاہم نیتن یاہو امریکا کی پشت پناہی میں اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے کے لیے بے تاب ہیں اور اس سلسلے میں ہر حد تک جانے کو تیار ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے