واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک سے نفرت انگیز مواد کے معاملے پر مذاکرات ناکام ہونے کے بعد تقریباً 400 کثیر القومی کمپنیوں نے ایک ماہ کے لیے فیس بک پر اشتہارات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔ امریکا میں سیاہ فام شہری جارج فلائیڈ کی پولیس تحویل میں ہلاکت کے بعد شہری حقوق کے لیے سرگرم تنظیموں نے بڑی اور کثیر القومی کمپنیوں پر دباؤ ڈالا تھا کہ وہ سوشل میڈیا کمپنی فیس بک پر نفرت انگیز مواد کی تشہیر روکنے کے لیے زور دیں۔ اس ضمن میں فیس بک انتظامیہ اور اشتہارات دینے والی کمپنیوں کے نمایندوں کے درمیان مذاکرات کا آخری دور بھی ناکام رہا، جس میں شامل کمپنیوں کے بعض عہدے داروں نے بتایا کہ فیس بک انتظامیہ نفرت انگیز مواد کا پھیلاؤ روکنے کے لیے کیے گئے اقدامات پر اُنہیں مطمئن کرنے میں ناکام رہی ہے۔ دوسری جانب فیس بک کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مارک زکربرگ نے بائیکاٹ کرنے والی کمپنیوں کے نمایندوں سے ملاقات پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ فیس بک نے رواں ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ نفرت انگیز مواد کی تشہیر روکنے کے لیے آڈٹ پالیسی متعارف کرا رہا ہے جس میں ٹوئٹر کی طرز پر قابل اعتراض مواد پر انتباہی لیبل لگانا بھی شامل ہے، تاہم حالیہ مذاکرات میں شامل کمپنی کے ایک عہدے دار نے بتایا کہ فیس بک نے آڈٹ پالیسی کے علاوہ نفرت انگیز مواد روکنے کے لیے مزید اقدامات سے متعلق آگاہ نہیں کیا۔ واضح رہے گزشتہ سال فیس بک کی آمدن 70 ارب ڈالر رہی تھی جس میں اشتہارات دینے والی بڑی کمپنیوں کا حصہ صرف 6 فی صد تھا۔
نفرت انگیز مواد ہٹانے میں ناکامی ،سینکڑوں کمپنیوں نے فیس بک کا بائیکاٹ کردیا
القمر
