انقرہ (انٹرنیشنل ڈیسک) تُرک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ شام کی زمینی سالمیت ہماری اوّلین ترجیح ہے۔ خبررساں اداروں کے مطابق ترکی، روس اور ایران کے صدور کے درمیان وڈیو کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ آستانہ مذاکراتی سلسلے اور شام کے موضوع پر چھٹے سربراہ اجلاس میں رجب طیب اردوان، روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور ایرانی صدر حسن روحانی نے شرکت کی۔ کانفرنس سے خطاب میں صدر اردوان نے کہا کہ ترکی شامی بحران کے آغاز ہی سے شامی بھائیوں کا ساتھ دیتاآیا ہے۔ ہم نے نسل، قوم اور مذہب کو دیکھے بغیر لاکھوں شامیوں کے لیے اپنے دروازے کھولے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کے ہاتھوں شام کی تقسیم سے بچنے کے لیے ہم نے ہر ممکن کوشش کی اور نہایت حساسیت کا مظاہرہ کیا۔ انقرہ نے اس سلسلے میں عملی مداخلت کر کے انسانی المیہ رونما ہونے سے روکا اور علاحدگی پسندوں کے مذموم ارادوں کے سامنے بند باندھا۔ آیندہ بھی ہمسایہ ملک کی بھلائی کے لیے جوہوسکا کریں گے۔ واضح رہے کہ شامی حکومت پر قابض اور معصوم شہریوں کے قاتل بشار الاسد کو روس اور ایران کی بھرپور حمایت حاصل ہے، جب کہ تُرکی شامی اپوزیشن کے مزاحمت کا حامی ہے۔ تینوں ممالک امریکا کے خلاف تو ایک صفحے پر ہیں، لیکن شام میں فریق بن کر ان کی ترجیحات الگ الگ ہیں۔
شام کی زمینی سالمیت ہماری اولین ترجیح ہے‘ اِردوان
القمر
