ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک) روسی صدر ولادیمیر پیوٹن آئینی ترمیم پر برائے نام ریفرنڈم کے ذریعے 2036ء تک روس کے سربراہ منتخب ہوگئے۔ خبررساں اداروں کے مطابق بدھ کے روز متنازع آئینی ترامیم پر ریفرنڈم ختم ہونے سے 5گھنٹے قبل ہی پیوٹن کی فتح کا اعلان کردیا۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ہونے والے حتمی اور سرکاری نتائج میں بتایا گیا کہ پیوٹن 77 فیصد ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ روس میں ریفرنڈم کا انعقاد اپریل میں ہونا تھا، تاہم کورونا وائرس کی وجہ سے انتخابات بروقت ممکن نہ ہوسکے۔ واضح رہے کہ روسی صدر نے طاقت اور اختیارات حاصل کرنے کے لیے آئین میں ترمیم کی تھی،جس کے تحت انہیں وزیر اعظم اور ایوانوں کے ارکان منتخب کرنے کا اختیار دیا گیا تھا۔ ان کے فیصلے پر وزیر اعظم نے اختلاف کرتے ہوئے استعفا بھی پیش کردیا تھا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق پارلیمان اور سینیٹ نے دباؤ میں آکر آئینی ترامیم کی منظوری دے دی تھی، تاہم صدر پیوٹن دنیا کو دکھانے کے لیے عوامی ریفرنڈم پر بضد تھے۔ تجزیہ کاروں کا کہناہے کہ حکومتی اداروں اور اعلیٰ حکام کی جانب سے فیصلہ کیا جاچکا تھا اور سادے عوام نے طے شدہ فیصلے پر ووٹ دے کر اپنی رائے کا استیصال کیا۔
ریفرنڈم: ولادیمیر پیوٹن 2036ء تک روس کے صدر منتخب
القمر
