ہانگ کانگ (انٹرنیشنل ڈیسک) چین میں سیکورٹی قانون کی منظوری اور اس کے نفاذ کے پہلے ہی روز ہانگ کانگ احتجاج کے دوران ہونے والی گرفتاریوں کے نتیجے میں بڑے مظاہرے تھم گئے ہیں تاہم ہانگ کانگ کے جمہوریت نواز کارکن امریکی کانگریس تک رسائی میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ چین مخالفت میں واشنگٹن حکومت پہلے ہی ہانگ کانگ کے مظاہرین کی حمایت جاری رکھے ہوئے تھا۔ اسی دوران میں گزشتہ روز وڈیو کانفرنس کے ذریعے 3 کارکن امریکی ایوان نمایندگان کی کارروائی میں شامل ہوئے، جہاں انہوں نے امریکی قانون سازوں کو بتایا کہ چین نے اس علاقے کے لیے سلامتی کا قانون نافذ کر کے ایک ملک، دو نظام کا اْصول ختم کر دیا ہے۔ ایک کارکن ناتھن لا نے کہا کہ اگرچہ یہ قومی سلامتی کے قانون کی خلاف ورزی ثابت ہو سکتی ہے لیکن میں اپنے پیارے ہانگ کانگ کے لوگوں کی طرف سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ خوف اور دھمکیوں کے ذریعے بیجنگ نے ہانگ کانگ کو محض ایک اور چینی شہر میں تبدیل کر دیا ہے۔ اعلیٰ خود مختاری کا وعدہ، صرف ایک فریب ہے جس کا پردہ چاک ہو چکا ہے۔ناتھن نے ’’ہانگ کانگ کو آزاد کرو‘‘ اور ’’ہمارے عہد کا انقلاب‘‘ کا نعرہ لگایا۔ اس موقع پر امریکی قانون سازوں نے چین کے خلاف پابندیوں کا مطالبہ کیا۔ دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے چین قانون کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آزاد سوچنے اور بولنے کی ہمت کرنے پر ہانگ کانگ کے شہریوں کو سیکورٹی فورسز ن گرفتار کرنا شروع کردیا ہے، جو کہ قانون کی بالادستی کو پامال کرنے کے مترادف ہے۔
ہانگ کانگ ،جمہوریت نوازوں کی امریکی کانگریس میں شرکت
القمر
