ادیس ابابا (انٹرنیشنل ڈیسک) افریقی ملک ایتھوپیا میں پُرتشدد مظاہروں اور مسلح گروپ کی طرف سے کی جانے والی کارروائیوں میں 81افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوگئے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق دارالحکومت پر 2روز سے مسلح مافیا نے قبضہ کررکھا ہے اور حکومت نے اس کے خلاف فوج کو طلب کرلیا ہے۔ ملک میں کشیدگی کے بعد صدر آبی احمد کی حکومت اور اپوزیشن میں شدید اختلافات سامنے آئے ہیں۔ خبررساں اداروں کے مطابق دارالحکومت ادیس ابابا میں پرتشدد مظاہرے اس وقت پھوٹ پڑے، جب ہاشالو ہوندیسا نامی ایک گلوکار کو قاتلانہ حملے میں ہلاک کردیا گیا۔ پولیس اور فوج نے احتجاج کومنتشر کرنے کے لیے وحشیانہ تشدد کیا اور نہتے مظاہرین پر طاقت کا اندھا دھند استعمال کیا، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوئیں۔ گلوکار کی ہلاکت کے بعد دارالحکومت میں ہرطرف تباہی پھیل گئی اور بڑی تعداد میں گاڑیوں اور دیگر املاک کو آگ لگا دی گئی۔ مقتول گلوکار اورومو قبیلے کے حقوق پر مظاہرین کی توجہ مبذول کروا رہا تھا اور احتجاج میں اپنے مقبول نغمے سے مظاہرین کی حوصلہ افزائی کر رہا تھا۔ ادھر پولیس کمشنر بیسداسا میرداسا کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والے افراد میں 78 شہری اور 3 سیکورٹی اہل کار شامل ہیں۔ مظاہروں کے دوران ایک دھماکا ہوا تھا اور اسی کے نتیجے میں بڑی تعداد میں ہلاکتیں رونما ہوگئیں۔ مقامی میڈیا کے مطابق ادیس بابا کے قریبی شہروں میں مسلح مافیا کی جانب سے فائرنگ کے باعث شہریوں میں خوف و دہشت کو راج رہا۔ عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ اورومو قبیلے کے نوجوان دیگر قبیلوں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور ان کے درمیان تصادم جاری ہے۔
ایتھوپیا ،دارالحکومت پر مسلح افراد کا راج ،پرتشدد مظاہروں میں 81 ہلاک
القمر
