English Al Qamar Urdu جون 27, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

مودی سرکار کی کسان دشمن پالیسی ،قرضوں کا جال پھینک دیا

القمر

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارتی حکومت ٹڈیوں کے حملوں کے خلاف اقدامات کے نام پر کسانوں کو قرضوں کے جال میں جکڑنے لگی۔ خبررساں اداروں کے مطابق بھارتی کسانوں کو کورونا وائرس کی وجہ سے فصلوں کے مناسب خریدار نہیں مل رہے ہیں، جب کہ دوسری طرف ٹڈیوں کے حملوں نے رہی سہی کسر پوری کردی ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ کسانوں کو مصیبتوں سے نکالنے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں، لیکن حقائق اس سے یکسر مختلف ہیں۔ مودی سرکار نے مئی کے اوائل میں کسانوں کے لیے اقتصادی پیکیج کا اعلان کیا تھا، جس میں فصلوں اور زرعی سازو سامان کے لیے بینکوں سے آسان قرض کی فراہمی کا وعدہ شامل تھا۔ تنظیموں اورماہرین کا کہنا ہے کہ پیکیج سے زرعی شعبے سے وابستہ مزدوروں کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ ادھر اپوزیشن کانگریس نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مودی کی طرف سے کسانوں کے لیے پیکیج سبز باغ کے سوا کچھ نہیں۔ حکومت لاک ڈاؤن سے بے حال کسانوں کو مرہم کی جگہ زخم دے رہی ہے اور انہیں قرض کے جال میں دھکیل رہی ہے۔ کسانوں کے حقوق کے لیے سرگرم بھارتیہ کسان یونین کے عہدے دار یدھ ویر سنگھ کا کہنا ہے کہ امدادی پیکیج سے کسانوں کوہونے والے نقصان کا کسی صورت ازالہ نہیں ہوسکے گا۔ پھل او ر سبزیاں اگانے والے کسان تباہ ہوچکے ہیں اور بعض نے تو دل برداشتہ ہوکر اپنے کھیتوں میں کھڑی فصلوں کو جلانا شروع کردیاہے۔ ادھر وزیر اعظم نریندر مودی نے قوم سے خطاب میں کسانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا تھا آج غریبوں اور ضرورت مندوں کو مفت اناج دینے کا سہرا دو طبقوں کو جاتا ہے۔ پہلا ہمارے ملک کے محنتی اور جفا کش کسان اور دوسرا ہمارے ملک کے ٹیکس دہندگان ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے