نیو یارک (انٹرنیشنل ڈیسک) اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کورونا وبا کے سبب پیدا ہونے والے عالمی بحران کے دوران مسلح تنازعات کا سلسلہ روکنے کی قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کرلیا۔ خبر رساں اداروں کے مطابق 3 ماہ سے زیادہ عرصے سے جاری بحث کے بعد جرمنی کی سربراہی میں قرارداد منظور کرلی۔ واضح رہے کہ قرارداد کے متن پر امریکا اور چین کے مابین تنازع چلا آ رہا تھا کہ اس میں عالمی ادارہ صحت کا تذکرہ شامل کیا جائے یا نہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا کے بحران میں دنیا بھر میں جنگ بندی کرنے سے متعلق قرارداد کی منظوری دے کر سلامتی کونسل نے اہم موضوع پرعالمی برادری کی تشویش دور کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ بات جرمنی کے لیے غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے کیوں ایک روز قبل ہی یکم جولائی کو جرمنی نے ایک ماہ کے لیے سلامتی کونسل کی صدارت سنبھالی ہے۔ حالیہ پیش رفت کو جرمنی کے لیے ایک کامیاب آغاز کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔ فرانس اور تیونس کی طرف سے پیش کی گئی قرارداد کے متن میں بنیادی طور پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیریس کی طرف سے کورونا وائرس کی وبا کے دوران میں مسلح تنازعات روکنے کے مطالبے کی حمایت کی گئی ہے۔ علاوہ ازیں قرارداد میں کہا گیا ہے کہ کورونا کے موجودہ بحران میں کم از کم 90 دن کا ’’’انسان دوست وقفہ‘‘ بھی ضروری ہے تاکہ متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو امدادی سامان پہنچایا جاسکے۔
سلامتی کونسل ،کورونا کے دوران جنگ بندی کی قرار داد منظور
القمر
