صنعا (انٹرنیشنل ڈیسک) یورپی ممالک نے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف سرگرم عرب اتحاد کی جانب سے نئے آپریشن کی حمایت کردی۔ برطانیہ، جرمنی اور سوئیڈن نے یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے خلاف مشترکہ موقف اختیار کرتے ہوئے باغیوں پر جنگ بندی کی کوششوں کی خلاف ورزی کاالزام عائد کیا۔ برطانوی وزرائے خارجہ ڈومینک راب، جرمنی کے ہائیکو ماس اور سوئیڈن کے آن لینڈ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ یمن کے مسئلے کا حل جنگ بندی اور فریقین کے درمیان مذاکرات ہی میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یمن میں کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے جنگ بندی اور تنازع کے حل کے لیے سیاسی بات چیت وبا کو شکست دینے کا بہترین ذریعہ ہے۔ تینوں وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں عرب کی حمایت کرتے ہوئے کہاکہ حوثیوں نے سعودی عرب کی اپیل پر جنگ بندی کی پاسداری نہیں کی۔ باغیوں نے اسٹاک ہوم معاہدے اور ریاض معاہدے پر عمل نہیں کیا اور دھجیاں اڑاکر رکھ دیں۔ واضح رہے کہ عرب اتحاد نے کی حوثی ملیشیا کے خلاف نئی فوجی کارروائی کا آغازکردیا ہے،جس کے تحت باغیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔عرب اتحاد کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ آپریشن کا مقصد حوثیوں کی جنگی سرگرمیوں کا خاتمہ ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ عرب اتحاد فوجی کارروائی کے بارے میں جلد ایک نیوز کانفرنس کرے گا،جس میں آپریشن کے اغراض کو تفصیل سے بیان کیا جائے گا۔ یہ کارروائی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملوں کے جواب میں کی جارہی ہے۔ ادھر حوثیوں کے ٹی وی چینل مسیرہ کی رپورٹ کے مطابق اتحادی فوج نے دارالحکومت صنعا، مآرب، الجوف، بیضہ، حجاج اور صعدہ صوبوں میں فضائی حملے کیے۔ یاد رہے کہ ہفتے کے روز عرب اتحاد نے سعودی دارالحکومت ریاض کی جانب داغے گئے میزائلوں کو ناکارہ بنایا تھا۔ یمن میں 6ہفتے کی جنگ بندی کے بعد حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب پر پہلا میزائل حملہ تھا۔
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
- ’پہلے ثبوت دکھائیے‘، عمران خان نے ممبئی پولیس کی رپورٹ پر اٹھائے سوال
- بابا صدیقی قتل معاملہ: ’ممبئی پولیس کارروائی نہیں، صرف نمائش کر رہی‘، بابا صدیقی کی اہلیہ شہزین کا سنگین الزام
- ’6 ریاستوں میں 10 کروڑ ووٹرس، ایس آئی آر میں صرف 1600 غیر ملکی ملے، تو لاکھوں نام کیوں حذف کیے گئے؟‘ کانگریس کا سوال
- پین کارڈ معاملہ: اعظم خان اور عبداللہ اعظم کو الہ آباد ہائی کورٹ سے ضمانت، سزا معطل
- چندہ ’شری رام‘ کے نام پر آیا تھا، حساب بھی دینا ہوگا اور جوابدہی بھی طے کرنی ہوگی، خاموشی نہیں جواب چاہیے: جے رام رمیش