سرینگر/دربار موو کے سلسلے میں 31 اکتوبر اور یکم نومبر کو جموں سے سرینگر کی طرف بھاری گاڑیوں کی آمدورفت کی اجازت نہیں دی جائے گی، جبکہ میوہ بردار ٹرکوں کو ترجیحی بنیادوں پر راستہ فراہم کیا جائے گا۔ یہ بات ڈی آئی جی ٹریفک کشمیر حسیب الرحمٰن نے جمعرات کو کہی۔
ڈی آئی جی ٹریفک نے کہا کہ دربار موو کی نقل و حرکت کے لیے خصوصی ٹریفک پلان مرتب کیا گیا ہے، جس کے تحت دربار موو سے متعلق گاڑیوں کو ترجیح دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ میوہ بردار ٹرکوں کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سڑک بند ہو جاتی ہے تو میوہ بردار ٹرکوں کو اگلی قطار میں کھڑا کیا جاتا ہے تاکہ انہیں ترجیحی بنیادوں پر جموں کی طرف روانہ کیا جا سکے۔
حسیب الرحمٰن نے کہا کہ اب تک ٹریفک کی نقل و حرکت معمول کے مطابق رہی ہے اور کسی بڑے مسئلے کی اطلاع نہیں ملی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر آنے والے دنوں میں موسم خراب ہوتا ہے تو محکمہ میوہ بردار ٹرکوں کو ترجیح دینے کی کوشش کرے گا۔انہوں نے مسافروں اور ڈرائیوروں کو مشورہ دیا کہ وہ پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ذریعے جاری ہونے والی ٹریفک ایڈوائزری پر عمل کریں۔ انہوں نے کہا کہ سڑکوں کی تازہ صورتحال جاننے کے لیے ٹریفک کنٹرول یونٹ کے ہیلپ لائن نمبر 103 پر بھی رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
سرینگر-جموں قومی شاہراہ کی صورتحال کے بارے میں ڈی آئی جی ٹریفک نے کہا کہ موسم معمول پر رہنے کی صورت میں ٹریفک کی نقل و حرکت ہموار ہے، تاہم بارش یا برف باری کی وجہ سے ٹریفک متاثر ہو سکتی ہے۔
سرینگر شہر میں بڑھتے ہوئے ٹریفک جام کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ گاڑیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ اس مسئلے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت پارکنگ کی سہولیات اور سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے مختلف اقدامات پر غور کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ مجوزہ منصوبوں میں بتہ مالو سے بمنہ اور ڈل گیٹ سے پانڈچ تک فلائی اوورز کی تعمیر کے علاوہ بائی پاس پر دو نئے فلائی اوورز کی تعمیر بھی شامل ہے۔
ڈی آئی جی ٹریفک نے کہا کہ سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کو ترقی دینے سے شہر میں ٹریفک کی نقل و حرکت بہتر ہونے کی امید ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بعض اوقات حفاظتی خدشات یا مشتبہ گاڑیوں کے بارے میں اطلاع ملنے پر بیریکیڈز نصب کیے جاتے ہیں، تاہم ٹریفک کو بلاوجہ نہیں روکا جاتا۔
وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں |
Load/Hide Comments