English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بجٹ میں آئی ایم ایف کے مؤخر پروگرام پر عمل کے اشارے

القمر

اسلام آباد: بجٹ کے اثرات ظاہر ہونا شروع ہوگئے ہیں اور بجٹ کو آئی ایم ایف کے پروگرام کی بحالی قرار دینے والے تجزیہ کاروں کی باتیں درست ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔ ایک ہفتے کے دوران ہی مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے۔

ادارہ شماریات نے اعتراف کیا ہے کہ موجودہ حکومت کے دوسرے سال میں پہلے سال سے بھی زیادہ شرح سے مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے۔ حکومت نے بجلی پر تمام جنرل سبسڈیز واپس لینے، 14فیصد تک مہنگی کرنے اور 5 کیٹگریز کے رعایتی نرخ محدودکرنے کافیصلہ کیا ہے، جو آئی ایم ایف کے رُکے ہوئے پروگرام کی بحالی کے لیے انتہائی اہم ہے۔ البتہ حکومت کو نیپرا ایکٹ میں ترمیم کیے بغیر اس ضمن میں قانونی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے مگر وزارت خزانہ حکومت فی الحال نئے سبسڈی میکانزم کو حتمی شکل دینے کے عمل میں ہے جس کے ذریعئے 300 یونٹ تک بجلی کی سبسڈی کم کر کے صرف 50یونٹ تک کئے جانیکا امکان ہے۔

ابھی دو دن پہلے وفاقی وزیر اسد عمر نے اپنے ٹوئٹ میں ہائڈل بجلی کی ریکارڈ پیداوار کا دعوی کیا ہے جس سے یقنی طور پر بجلی کی پیداواری لاگت میں کمی کے باعث عام عوام کے لئے بجلی کی قیمتیں کم ہونی چاہیئں مگر تیاریاں اضافے کی کی جا رہی ہیں۔ بجٹ پورا کرنے کے لئے قرضے لئے جا رہے ہیں۔ عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے کچھ قرضے مل چکے ہیں جبکہ کچھ ابھی ملنا باقی ہیں۔

جی ایٹ ممالک سے دو ارب ڈالر کے قرضوں کے ریلیف کیلئے بھی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ ملک پر قرضوں کا بوجھ جس تیزی کے ساتھ بڑھ رہا ہے وہ یقینی طور پر ملک کی معاشی خود مختاری کے لئے بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ لوگوں کا باتوں سے بہلنا اب مشکل دکھائی دے رہا ہے۔ کیونکہ مہنگائی کا سلسلہ ابھی رُکتا دکھائی نہیں دے رہا۔ ملکی و غیر ملکی اداروں کی پیشگوئی یہی ہے کہ امسال مہنگائی بڑھے گی۔

حکومت نے گزشتہ تین ماہ کے دوران چار سیکرٹری صحت تبدیل کیے ہیں اس ناتجربہ کاری اور پالیسی سازی و فیصلہ سازی کے فقدان کا نتیجہ پوری قوم بھگت رہی ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو اب تک حکومت کوئی مستقل سربراہ دینے سے قاصر ہے۔ ایسے میں کیسے معاملات میں بہتری کی توقع کی جاسکتی ہے اور پھر غلط وقت پر کئے جانے والے درست فیصلے بھی اپنی اہمیت کھو بیٹھتے ہیں۔

ابھی بھی ایسے وقت پر چیئرمین ایف بی آر کو تبدیل کیا گیا ہے جب قاضی فائز عیسی کیس میں انکی فیملی کا معاملہ عدالت کی جانب سے ایف بی آر کے پاس ہے یہی وجہ ہے کہ کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ اسے قانونی چیلنج کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے کیوں کہ نئے چیئرمین ایف بی آر کو عارضی چارج دیا گیا ہے جو کہ سپریم کورٹ کے حکم پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں اثاثہ انکوائری کی نگرانی کریں گے اور ایف بی آر کی جانب سے جسٹس قاضی فائز عیسی کی فیملی کو نوٹس بھی بھجوا دیا ہے اوراب ادارے نے تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ عدالت میں جمع کروانا ہے اس اہم موقع پر اس طرح کے اقدامات معاملات کو سیاست کی نذر کرنیکا باعث بن رہے ہیں۔

دوسری جانب بجٹ سازی کے بعد سے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اقتدار کیلئے جاری چومکھی لڑائی میں تیزی آگئی ہے۔ خود حکومتی حلقوں سے مائنس ون ، مائنس تھری کی آوازیں آرہی ہیں بلکہ خود وزیراعظم عمران خان نے مائنس ون کی بات کی ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ اگر کوئی اور وزیراعظم آتا ہے تو بھی حکم انکا ہی چلے گا۔ اس کے ساتھ قیاس آرائیاں کرنے والے اسد عمر ،مخدوم شاہ محمود قریشی اور شیخ رشید کے نام متبادل وزیراعظم کے طور سامنے لا رہے ہیں۔ سیاسی پنڈتوں کا ماننا ہے کہ کچھڑی پک ضرور رہی ہے ادھر پنجاب میں ن لیگ کے بعض اراکین کی وزیراعلی عثمان بُزدار سے ملاقاتیں ہوئی ہیں تو پی ٹی آئی کے بھی ن لیگ سے وفاق میں تبدیلی کے لئے رابطوں کی اطلاعات ہیں۔

فواد چوہدری کے حوالے کہا جا رہا ہے کہ مسلم لیگ ن کی اعلی قیادت کو پیشکش کی گئی ہے کہ تحریک انصاف کے دو درجن اراکین قومی اسمبلی بھی ساتھ دیں گے اگر مسلم لیگ ن وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر راضی ہو جائے۔ مسلم لیگ ن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کو یہ پیغام پہنچا دیا گیا ہے تاہم انہوں نے تحریک عدم اعتماد میں کسی قسم کا حصہ لینے سے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا ہے کہ جو لوگ وزیراعظم کو لائے تھے وہی فارغ کریں ہم اس کھیل کا حصہ نہیں بنیں گے۔

خارجی سطح پر بھی اہم ڈویلپمنٹس ہو رہی ہیں۔ افغان امن کونسل کے اہم رہنما وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی دعوت پر جلد پاکستان کے دورے پر آرہے ہیں جس سے افغانستان میں جاری امن کوششوں کے حوالے سے اہم پیشرفت متوقع ہے۔ دوسری طرف زلمے خلیل زاد بھی بہت زیادہ متحرک ہیں اور وہ خصوصی طیارے پر اہم دورے کر رہے ہیں۔ اپنے حالیہ دورہ پاکستان میں افغانستان کے ساتھ ریل لنک کی پیشکش کرچکے ہیں مگر اس میں بھی امریکی مفاد کو مقدم رکھا جا رہا ہے اور امریکہ کی جانب سے فنانسنگ فراہم کرنے کی بجائے اس منصوبے کے لئے امریکی بینکوں سے قرضوں کی پیشکش کی جا رہی ہے تاکہ امریکہ کے بینکنگ سیکٹر کو سہارا دیا جا سکے۔

بھارت کی طرف سے روسی اسلحہ کی حالیہ خریداری اور امریکی کردار بہت اہم معاملہ ہے اور خطہ میں روس امریکہ کشمکش کا اظہار بھی ہے۔ پاکستان اور امریکہ کا تعلق دھونس ، دباو اور سازش کا تعلق ہے۔ امریکہ پاکستان سے اپنے سیاسی اور عسکری مطالبات عالمی مالیاتی اداروں سے امداد دلوا کر یا یہ امداد روک کر پورے کروا رہا ہے۔ اس مقصدکے لئے امریکہ نے پاکستان میں اپنے قابل اعتبار ترین افراد کو اہم ترین عہدوں پرتعینات کروایا ہے۔ ان افراد کو امریکی سرپرستی واضح طور پر محسوس کی جا رہی ہے۔ اسی ’’ٹیم‘‘ کے ذریعے امریکہ پاکستان میں سی پیک پر پیش رفت کو سست کروانے کی کوشش کرتا ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ امریکہ انہی لوگوں کے ذریعے بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کو ضم کرنے اور اس کی آئینی حیثیت کو تبدیل کرنے کے اقدامات پر پاکستان کو خاموش رکھنے اور کوئی عملی ردعمل نہ دکھانے پر مجبور کر چکا ہے اور اسی قسم کے بہت سے پاکستان کے مفادات کے خلاف اقدامات پائپ لائن میں ہیں۔ امریکہ نہ خود اور نہ اپنے کسی اتحادی کو پاکستان کو کسی بھی قسم کا اسلحہ فروخت کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ پاکستان ایسے حالات میں اسلحہ کی سپلائی کے لئے روس کی طرف جھکاو ظاہر کر رہا ہے کیونکہ اس کے پاس روس اور چین کے علاوہ اور کوئی آپشن نہیں بچا۔ اسی وجہ سے ماضی قریب میں پاکستان نے اپنی سروس رائفل کے طور پر روس سے ٹرانسفر آف ٹیکنالوجی کے معائدے کے تحت اے کے 103 کی خرید اور پاکستان میں تیاری کا فیصلہ کیا ہے۔

پاکستان اور روس کے بڑھتے ہوئے دفاعی تعلقات کو روکنے کے لئے امریکہ اور بھارت کی طرف سے روس سے کچھ اسلحہ کی خریداری ایک سوچی سمجھی پالیسی کے تحت ہے جس کا مقصد روس اور پاکستان کے درمیان بڑھتے ہوے دفاعی تعلقات میں رخنہ ڈالنا ہے۔ کیونکہ امریکہ یا کسی مغربی طاقت کی طرف سے پاکستان کو فورتھ جنریشن یا ففتھ جنریشن کے ہوائی جہاز بیچنے سے انکار پر اب پاکستان اور روس کے درمیان ایس یو 35 ائیر کرافٹ کی سپلائی کے لئے بات چیت چل رہی ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے