


شام میں کار بم دھماکا ،7 افراد جاں بحق،85 زخمی
دمشق (انٹرنیشنل ڈیسک) شام میں ایک کار بم دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 7 افراد جاں بحق اور 60 سے زائد زخمی ہو گئے۔ تُرک ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ حملہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب ترکی کی سرحد پر واقع باب السلامہ گزرگاہ کے قریب اس قصبے میں کیا گیا، جو مزاحمت کاروں کے زیرانتظام ہے۔ مرنے والوں میں 5 شہری اور 2 دیگر لوگ شامل ہے، جب کہ زخمیوں میں بڑی تعداد عورتوں اور بچوں کی بھی ہے۔ زخمیوں کو ترکی کے مختلف اسپتالوں میں منتقل کردیا گیا ہے، جن میں سے درجنوں کی حالت تشویش ناک ہے۔ تُرک فوج نے ان حملوں کی ذمے داری کرد علاحدگی پسندوں پر ڈالی ہے۔ ترکی کے فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گردی سے پاک علاقوں میں بم حملوں کی ذمے دار پی کے کے تنظیم ہے، مگر شہریوں کے جانی نقصان کے باعث وہ قبول کرنے سے گریز کرتی ہے۔ اتوار کی صبح عفرین میں بھی ایک گاڑی میں نصب بم پھٹنے سے 13 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔ اسی دوران شام میں اتوار کے روز ملک کی نئی پارلیمان کا انتخاب کیا گیا۔ مختلف جماعتوں نے ان انتخابات میں حصہ لیا، مگر ان میں سے کوئی بھی جماعت بشار الاسد کی پارٹی کے لیے بڑا چیلنج نہیں ثابت ہوئی، جس نے اپنی فتح کا اعلان بھی کردیا۔ شام میں پارلیمان کی 250 نشستوں کے لیے ووٹ ڈالے گئے۔ ملک میں خانہ جنگی کے دوران یہ تیسرے انتخابات ہیں۔ کورونا وائرس کی وجہ یہ انتخابات دو بار ملتوی کیے جا چکے تھے۔ انتخاب میں مختلف جماعتوں سے تعلق رکھنے والے تقریباً 2 ہزار امیدواروں نے حصہ لیا، لیکن 2 عشروں سے اقتدار میں رہنے والی بشارالاسد کی بعث پارٹی کے لیے کوئی بھی جماعت خطرہ نہیں بن سکی۔ 7 ہزار سے زیادہ پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹ ڈالے گئے۔ بشار کے مخالفین نے ان انتخابات کو ایک مذاق سے تعبیر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بشار الاسد کی وجہ سے شام کے لاکھوں باشندے اس حال کو پہنچے ہیں۔ ترکی میں موجود شامی حزب اختلاف کے قومی اتحاد نے کہا کہ اتوار کو ہونے والے انتخاب اسد حکومت کا رچایا گیا ایک ڈراما تھے۔ شام میں یہ انتخابات ایسے حالات میں ہوئے ہیں، جب ملک خانہ جنگی اور شدید اقتصادی مشکلات کا شکار ہے۔ امریکا نے شام پر جو اقتصادی پابندیاں عائد کی ہیں اور لبنان جس معاشی بحران سے گزر رہا ہے، اس کی وجہ شام کی معاشی حالت بہت خستہ ہو چکی ہے۔
شام: تُرک سرحد کے قریب قصبے میں کار بم دھماکے کا نشانہ بننے والی گاڑیاں جل کر تباہ ہوگئی ہیں
قاہرہ/ انقرہ (انٹرنیشنل ڈیسک) لیبیا میں حکومت کے حلیف ترکی اور باغیوں کے مددگار مصر کے درمیان عسکری تصادم کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ خبررساں اداروں کے مطابق مصری پارلیمان نے فوجی صدر عبدالفتاح سیسی کو لیبیا میں عسکری مداخلت کا اختیار دے دیا ہے۔ مصر نے لیبیا کے شہر سرت کو سرخ لکیر قرار دیا تھا۔ اس نے اس شہر کے اطراف جاری پیش رفت پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے۔ مصدقہ رپورٹوں کے مطابق ترکی کی عسکری حمایت یافتہ لیبیا کی متحدہ وفاق حکومت کی فوج اس ساحلی شہر کی سمت پیش قدمی کے لیے اکٹھی ہو رہی ہے۔ مصری وزیر خارجہ سامح شکری نے واضح کیا کہ لیبیا میں صورت حال کی پیش رفت، بیرونی مداخلت، ملیشیاؤں کی کوششیں اور غیر ملکی جنگجوؤں کا لایا جانا، یہ تمام امور مصر کی قومی سلامتی اور دیگر عرب ممالک کے امن کے لیے ایک بڑا خطرہ بن رہے ہیں۔ مصر اس بات کے لیے کوشاں ہے کہ سیاسی حل تک پہنچا جائے اور لیبیا کے داخلی فریقوں کے درمیان موافقت کا راستہ تلاش کیا جائے۔ اس کے نتیجے میں لیبیا کی سرزمین کی وحدت، امن و استحکام اور سلامتی کو برقرار رکھا جا سکے۔ دوسری جانب ترکی نے مقامی طور پر تیار کیے جانے والے چنار ساخت کے اسکاریا ٹی 22 میزائل لیبیا میں وفاق حکومت کو بھیجے ہیں۔ اس سے قبل شام میں ان میزائلوں کا تجربہ کیا جا چکا ہے۔ یہ بات تُرک عسکری ذرائع کے حوالے سے بتائی گئی ہے۔ ترکی کے اخبار ملت کے مطابق ترک فوج نے وفاق حکومت کے لیے لوجسٹک سپورٹ اور عسکری ساز و سامان بھیجنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ اس حوالے سے انقرہ نے لوک ہیڈ سی 130 ای اور اے 400 ایم ساخت کے 2 کارگو طیارے لیبیا میں الوطیہ کے فوجی اڈے اور مصراتہ شہر بھیجے۔ لیبیا بھیجے گئے میزائلوں کو سرت شہر کے قریب رکھا گیا ہے۔
طرابلس/ قاہرہ/ انقرہ: متحدہ وفاق حکومت کی فوج فیصلہ کن حملے کے لیے سرت کے باہر مورچے سنبھال چکی ہے‘ مصری پارلیمان میں فوجی صدر جنرل عبدالفتاح سیسی کو ہمسایہ ملک میں عسکری مداخلت کا اختیار دینے پر بحث ہورہی ہے‘ مالٹا، ترکی اور لیبیا کے وزرا ملاقات کے بعد پریس کانفرنس کررہے ہیں
