میرپورخاص(نمائندہ جسارت) چند روز قبل قتل ہونے والے شخص سہراب مری کے ورثا سلیم مری، قاسم مری اور دیگر نے کہا ہے کہ دلبر مہر پولیس مقدمہ درج کرنے کے باوجود قاتلوں کو گرفتار نہیں کررہی، پولیس ملزمان اور ان کے بااثر سرپرست سے بھاری رقم لے کر ان کو تحفظ فراہم کررہی ہے، ملزمان اب بھی ہمیں خطرناک نتائج کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے میرپور خاص پریس کلب میں پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ میرپور خاص کے قریبی گوٹھ بگٹی فارم کے رہائشی سہراب مری نے 9 جولائی کی صبح اپنے بیٹوں سلیم اور قاسم کو فون کر کے بتایا کہ کچھ افراد نے مجھے گھیر لیا ہے اور میری جان کو خطرہ ہے، فوری میری مدد کرو جب ہم موقع پر پہنچے تو قاتل ہمارے والد کو قتل کر کے اس کی لاش کو جھاڑیوں میں پھینک کر جارہے تھے، ہم نے فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی جس کے بعد ڈی ایس پی ذوالفقار قائمخانی اور ایس ایچ او خفا بخش رانجھانی موقع پر پہنچے اور لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے سول اسپتال منتقل کیا، مقتول کے جسم پر زخموں کے نشان تھے اور اس کے گردن کی ہڈی ٹوٹی ہوئی تھی، پوسٹ مارٹم کی رپورٹ ڈاکٹر ندیم میمن سے ملی بگھت سے جھوٹی تیار کروائی گئی ہے، جس میں مرنے کی وجہ دل کا دورہ پڑنا ہے، اب ہم نے عدالت میں مقتول کی قبر کشائی کر کے دوبارہ پوسٹ مارٹم کرنے کی درخواست دائر کر رکھی ہے۔ ہمارے شدید احتجاج کے بعد دلبر مہر تھانے پر سہراب مری کے قتل کے الزام میں ہاشم مری، احمد مری، واحد بخش مری، حسیب مری اور میر خان مری کیخلاف مقدمہ درج کیا ہے لیکن بااثر افراد کی ایما پر پولیس ملزمان کو گرفتار نہیں کررہی ہے اور وہ آزاد گھوم رہے ہیں، ملزمان اب بھی روزانہ رات کو ہمارے گھروں پر فائرنگ کرتے اور خطرناک نتائج کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ انہوں نے چیف جسٹس پاکستان، چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ، وزیر اعلی اور آئی جی سندھ سے اپیل کی ہے کہ مقتول کی قبر کشائی کر کے اس کا پوسٹ مارٹم کروایا جائے اور قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کر کے سزا دی جائے۔
دلبر مہر پولیس سہراب مری کے قاتلوں کو گرفتار نہیں کررہی، ورثا
القمر
