English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

امارات نواز یمنی باغیوں اور سعودی حلیف حکومت مفاہمت

القمر

عدن (انٹرنیشنل ڈیسک) یمن میں امارات نواز باغی کونسل خود مختاری کے اعلان سے پیچھے ہٹ گئی ہے۔ جنوبی انقلابی کونسل نے یہ فیصلہ سعودی عرب کے دباؤ میں کیا ہے۔ جنوبی کونسل نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ وہ خود مختاری کے دعوے سے دستبردار ہو رہی ہے۔ خیال رہے کہ سعودی عرب کی مسلسل کوششوں کے باعث یمن کے کسی کے ایک حصے میں تو تعطل کے شکار امن عمل میں پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے۔ اس مناسبت سے طے پانے والی تازہ ترین مفاہمت تقسیم اقتدار کے سابق سمجھوتے ’’معاہدۂ ریاض‘‘ کے تحت سامنے آئی ہے۔ ریاض معاہدے کا بنیادی مقصد یمن کے جنوبی حصے میں جنگ زدہ صورت حال کو ختم کرنا تھا۔ اس سمجھوتے پر دستخط گزشتہ برس نومبر میں یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت اور جنوبی انقلابی کونسل نے کیے تھے۔ اس معاہدے میں فریقین نے ایک دوسرے کے خلاف مسلح محاذ آرائی ختم کرنے کا عہد کیا تھا، لیکن اس پر عمل نہیں کیا جا سکا تھا۔ امید کی جا رہی ہے کہ اس نئی پیش رفت کے بعد کم از کم یہ فریق ایک دوسرے کے ساتھ امن معاملات آگے بڑھا سکیں گے۔ رواں برس اپریل میں اس سمجھوتے میں اس وقت دراڑ پیدا ہو گئی جب فریقین میں عدم اعتماد پیدا ہونا شروع ہوا۔ جنوبی باغیوں نے سعودی عرب کی حمایت یافتہ حکومت پر الزام لگایا کہ وہ ریاض معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہ بھی کہا گیا تھا کہ حکومت جنوب کے خلاف سازشی منصوبے بنانے کی مرتکب ہوئی تھی۔ اس الزام کے بعد جنوبی کونسل نے خود مختاری کا اعلان کرتے ہوئے اہم بندرگاہی شہر عدن پر قبضہ کر لیا تھا۔ جنوبی عبوری کونسل کے ترجمان نزار ہیثم کا کہنا کہ خود مختاری سے پیچھے ہٹنے کی بنیادی وجہ اہم مقاصد کا حصول ہے۔ جنوبی عبوری کونسل کو متحدہ عرب امارات کی حمایت حاصل ہے اور کونسل نے اپنے اعلانِ خود مختاری سے پیچھے ہٹنے کی وجہ عرب امارات پر سعودی دباؤ بتایا ہے۔ اس کی تصدیق نزار ہیثم کے ایک ٹوئٹ سے بھی ہوئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے