طرابلس ؍ انقرہ (انٹرنیشنل ڈیسک) لیبیا میں باغی ملیشیا کے خلاف بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی عسکری معاونت کے سلسلے میں ترک خفیہ اہل کاروں نے ایک فوجی اڈے کا دورہ کیا ہے اور چند گھنٹوں بعد واپس روانہ ہوگئے۔ عرب ٹی وی کے مطابق انٹیلی جنس ٹیم ترکی سے براہ راست پرواز کے ذریعے الوطیہ کے فوجی اڈے پر پہنچی، تاہم اس کے مقاصد معلوم نہیں ہو سکے۔ واضح رہے کہ رواں برس مئی میں لیبیا کی فوج اور ان کے معاون گروپوں کی مداخلت کے بعد باغی ملیشیا الوطیہ فوجی اڈے سے چلی گئی تھی۔ دوسری جانب سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا ہے کہ لیبیا کے تنازع کے حوالے سے سعودی عرب اور تیونس کے موقف میں ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے دونوں ممالک ایک رائے رکھتے ہیں۔ واضح رہے کہ سعودی وزیر خارجہ اور تیونس کے صدر سعید قیس کے درمیان ایک روز قبل تیونسی دارالحکومت میں ملاقات ہوئی تھی، جس میں دونوں رہنماؤں نے بین الاقوامی اور علاقائی صورت حال خصوصاً لیبیا کے تنازع پر پر تبادلہ خیال کیا۔ تیونسی صدر کا کہنا تھا کہ لیبیا کے متحارب گروپوں کے درمیان قربت پیدا کرنے اور جنگ بندی کے لیے تمام علاقائی قوتوں کو اپنا کردار ادا کرنا پڑے گا۔
ترکی کے خفیہ اہل کاروں کا لیبیا میں فوجی اڈے کا دورہ
القمر
