قاہرہ (رپورٹ: الیاس متین) مصر میں فوجی آمر عبدالفتاح سیسی کی قید میں موجود اخوان المسلمون کے ایک اور رہنما وفات پاگئے۔ خبررساں اداروں کے مطابق عصام العریان ہارٹ اٹیک کے باعث قاہرہ کے قید خانے میں انتقال کرگئے۔ 66سالہ عصان العریان نے اس سے قبل عدالت میں پیشی کے موقع پر واضح کیا تھا کہ انہیں مصری حکومت کی جانب سے علاج کی کوئی سہولت حاصل نہیں ہے اور بیمار ہونے کے باوجود کوئی توجہ نہیں دی جارہی۔ انہوں نے عدالت کو بتایا تھا کہ انہیں قیدخانے میں جانے کے بعد ہیپاٹائٹس سی کا عارضہ لاحق ہوا، لیکن حکام سیکورٹی کے نام پر ان کے علاج میں تاخیر کررہے ہیں۔ ادھر ان کے وکیل عبدالمنعم عبدالمقصود نے میڈیا کو بتایا کہ انہیں وزارت داخلہ کی ماتحت جیل انتظامیہ کی جانب سے فون کرکے عصام العریان کی موت کی خبر سنائی گئی۔ جیل حکام نے انہیں سخت پہرے میں رکھا ہوا تھا اور 6ماہ سے ان کے گھر کے کسی فرد نے ملاقات تو درکنار ان کی صورت بھی نہیں دیکھی تھی۔ عصام العریان مصر میں اخوان المسلمون رہنما ہونے کے ساتھ پیشے کے اعتبار سے ایک ڈاکٹر تھے۔ 2013ء میں جنرل سیسی نے مصر کے پہلے عوامی صدر مرسی کا تختہ پلٹ کر اخوان المسلمون کے دیگر رہنماؤں کے ساتھ عصام کو بھی قید کررکھا تھا۔ قاہرہ حکومت نے ان پر کئی مقدمات قائم کررکھے تھے،جن میں مشرقی سرحد پر تخریب کاروں کی معاونت، تشدد کو فروغ دینااور2014ء میں مسجد استقامت کیس شامل ہے۔ 16مئی 2015ء کو قاہرہ کی کرمنل کورٹ نے وادی نطرون قیدخانے سے فرار اور فلسطینی تحریک مزاحمت حماس سے تعلقات کے الزامات کے تحت ان کا کیس اعلیٰ عدالت میں منتقل کردیا تھا۔ عصام العریان کی طرح اخوان کے درجنوں رہنما مصری جیلوں میں خطرات کا شکار ہیں۔
