English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بھارتی وکیل کو ٹوئٹ مہنگی پڑگئی،توہین عدالت کا مجرم قرار

القمر

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارتی عدالت عظمیٰ نے ملک کے سرکردہ وکیل پرشانت بھوشن کو ججوں کے بارے میں ان کی ایک ٹوئٹ پر توہین عدالت کا قصوروار قرار دے دیا۔ عدالت سزا کا تعین آیندہ ہفتے کریگی۔ انسانی حقوق کے سرکردہ کارکن اور معروف وکیل پرشانت بھوشن نے اپنی ایک ٹوئٹ میں عدالت عظمیٰ کے موجودہ چیف جسٹس اور چار دیگر سابق چیف جسٹس پرمبینہ نکتہ چینی کی تھی جس کے بعد عدالت نے اس کا از خود نوٹس لیا تھا۔ جسٹس ارون مشرا کی قیادت والی تین رکنی بینچ نے وڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے سماعت کے دوران پرشانت بھوشن کو قصوروار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ توہین عدالت کا یہ سنگین معاملہ ہے۔ عدالت اس بارے میں 20 اگست کو سزا کا تعین کرے گی۔ 1971ء میں توہین عدالت سے متعلق جو ایکٹ منظور کیا گیا تھا، اس کے مطابق پرشانت بھوشن کو توہین عدالت کے جرم میں جرمانے کے ساتھ 6ماہ کی قید کی سزا ہوسکتی ہے، لیکن قانون کے تحت اس بات کی گنجایش بھی ہے کہ اگر قصوروار اپنے بیان پر معافی طلب کرلے تو اسے معاف بھی کیا جا سکتا ہے۔ رواں برس 22 جولائی کو عدالت عظمیٰ نے پرشانت بھوشن کی 2 متنازع ٹوئٹس کا جائزہ لیتے ہوئے کہا تھا کہ بادی النظر میں ان ٹوئٹس سے عدالتی نظام کی توہین ہوئی ہے۔ اس کے جواب میں پرشانت بھوشن کا کہنا تھا کہ آزادی فکر توہین عدالت نہیں ہوسکتی۔ لیکن اب عدالت نے اسے اپنی توہین قرار دیتے ہوئے انہیں قصوروار ٹھہرایا ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ ہماری رائے یہ ہے کہ ٹوئٹر پر ان بیانات سے عدلیہ کی بدنامی ہوئی ہے، اورعدالت عظمیٰ خاص طور پر چیف جسٹس اور ان کے آفس کے لیے عوام کی نظر میں جو عزت و احترام ہے، یہ بیانات اس کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ پرشانت بھوشن نے اپنی ایک ٹوئٹ میں بھارتی جمہوریت کی تباہی میں عدالت عظمیٰ کے 4 سابق چیف جسٹس کو مورد الزام ٹھہرایا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے