انقرہ (انٹرنیشنل ڈیسک) تُرک صدر رجب اردوان نے بحیرہ میں میں تیل و گیس کی تلاش روکنے کے یورپی مطالبے کو مسترد کردیا۔ انہوں نے کہا کہ انقرہ پابندیوں اور دھمکیوں کو خاطر میں نہیں لائے گا۔ یورپی یونین اور بین الاقوامی کوششیں ترکی کو بحیرہ روم میں توانائی کی تلاش سے نہیں روک سکیں گی۔ترکی کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ وہ قبرص کے جنوب مغربی ساحل کے قریب جلد ہی گیس کی تلاش کے لیے کھدائی کا کام دوبارہ شروع کردے گا۔ قبل ازیں جب انقرہ نے تیل و گیس کی تلاش شروع کی تھی تو یونان کی مخالفت اور یورپی یونین کی مداخلت کے باعث عارضی طو ر پر کام روک دیا گیا تھا۔ اس دوران یورپی یونین نے اپنی دوغلی پالیسیوں کے ذریعے اسے مزید التوا میں رکھنے کی کوشش کی، تاہم تُرکی نے مزید برداشت کرنے سے انکار کرکے دوبارہ کھدائی شروع کرنے کا اعلان کردیا۔ تُرک صدر کا کہنا تھا کہ وہ جرمنی کی سربراہی میں ہونے والے تیز رفتار مذاکرات کے سست نتائج کا مزید انتظار نہیں کرسکتے اور اپنے جہاز کے ذریعے جلد ہی کارروائی کا آغاز کردیں گے۔ ادھر انقرہ کے اقدام سے یونان سے کشیدگی بڑھتی جارہی ہے اور دونوں ممالک میں تصادم کے خطرات بڑھتے جارہے ہیں۔ اس معاملے میں برسلز حکام یک طرفہ طور پر یونان کا ساتھ دے رہے ہیں، جب کہ دوسری جانب تُرک حکومت اپنے موقف پر ڈٹ کر کھڑی ہے اور اس نے یورپ کے سامنے سر جھکانے سے انکار کردیا ہے۔
یورپی مطالبہ مسترد ،ترکی گیس کی تلاش جاری رکھنے پر پرعزم
القمر
