English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

عرب اسرائیل گٹھ جوڑ قبلہ اول سے غداری ، فلسطین نیشنل کانفرنس

مقبوضہ بیت المقدس: غزہ میں مزاحمتی تحریک حماس کے تحت منعقد کی گئی نیشنل کانفرنس کے دوران فلسطین بھر سے مختلف سیاسی، سماجی، مذہبی اور دیگر مکاتب فکر کے نمایندے شریک ہیں

 

مقبوضہ بیت المقدس (رپورٹ: الیاس متین) عرب ممالک کی جانب سے اسرائیل سے تعلقات بڑھانے کے خلاف مزاحمت کے لیے فلسطینی جماعتوں نے خود کو منظم کرنا شروع کردیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق فلسطینی تحریک مزاحمت حماس نے غزہ میں ایک اجلاس کا انعقاد کیا،جس میں فلسطین کے تمام رہنماؤں کو شرکت کی دعوت دی گئی۔ اجلاس کے دوران حماس کے ترجمان حازم قاسم کا کہنا تھا کہ فلسطینی رہنماؤں کو جمع کرنے کا مقصد دنیا پر واضح کرنا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی صہیونی حکومت سے وفاداری اور مسجد اقصیٰ سے غداری کے خلاف قوم متحد ہے۔ انہوں نے کہا کہ حماس فلسطین کو اسرائیل سے چھڑانے تک مزاحمت کرتی رہے گی۔ انہوں نے بتایا کہ حما س نے فلسطین بھر کی جماعتوں کو متحد کرنے کی تحریک کا آغاز کردیا ہے اور اس سلسلے میں مزید ملک گیر اجتماعات کیے جائیں گے۔ ادھر فلسطینی وزیر اعظم محمد اشتیہ نے کابینہ کا ہنگامی اجلاس کرلیا۔ کابینہ سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ متحدہ امارات کا اسرائیل سے معاہدہ فلسطین سے متعلق عرب پالیسی سے واضح انحراف ہے۔ وزیراعظم نے آج فلسطینی اتھارٹی کے ایک اور ہنگامی اجلاس کا اعلان کیا،جس میں عرب اسرائیل گٹھ جوڑاور اس کے مضمرات پر روشنی ڈالی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ اسلحہ کی بھوک کو مٹانے اور ملکی دفاع کو مضبوط کرنے کے لیے ارض مقدس اور اس کے مکینوں کا سودا کیا۔ فلسطینی حکومت غرب اردن پر اسرئیل قبضے، یہودی توسیع پسندی اور صہیونی فوج کے نہتے فلسطینیوں پر حملوں کا بھرپور مقابلہ کرے گی۔دوسری جانب واشنگٹن نے ابوظبی کے فیصلے کے خلاف عالم اسلام کے اشتعال کو کم کرنے کے لیے مداخلت شروع کردی۔ ٹرمپ کے یہودی داماد اور وائٹ ہاؤس کے مشیر جیرڈ کشنر نے کہا کہ امریکا کچھ عرصے تک اسرائیل کے مغربی کنارے کے انضمام کے منصوبے کی حمایت نہیں کرے گا۔ ٹرمپ کے مشیر کا کہنا تھا کہ امارات اسرائیل معاہدے اور خطے میں امن کی کوشش کے پیش نظر امریکا کچھ وقت کے لیے اسرائیل کو انضمام کی منظوری نہیں دے گا۔ امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریککی مینی سوٹا سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹک رکن بٹی میک کولم نے کانگریس میں ایک بل پیش کیا ہے، جس میں حکومت سے مغربی کنارے سے متعلق صہیونی منصوبے میں کسی قسم کی مدد نہ کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ بل کی حمایت میں 30 سے زیادہ ترقی پسند جمہوری تنظیموں نے ووٹ دیا۔ ادھر اسرائیلی وزیر توانائی یووال شنائنٹز نے ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطین پر قبضہ یک دم نہیں کیا جائے گا، بلکہ اسے مرحلہ وار مکمل کیا جائے گا۔ صہیونی وزیر کا کہنا تھا کہ تل ابیب حکومت اپنے منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچا کر ہی دم لے گی۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے