متحدہ عرب امارات نے مملکت میں آنے والے شہریوں کے لیے 4 روز قبل کرائے گئے پی سی آر ٹیسٹ کی شرط عائد کر دی۔
کورونا وائرس کا عام طور پر ہونے والا پی سی آر ٹیسٹ مریض کے لیے دشواری کا باعث بنتا ہے اور اس کا نتیجہ بھی فوری نہیں آتا۔
اس پریشانی کو مدنظر رکھتے ہوئے یو اے ای نے ہدایات کی ہیں کہ وہ مسافر کو امارات آنے چاہتے ہیں انہیں سفر سے 96 گھنٹے قبل پی سی آر ٹیسٹ کرانا ہوگا اور ایئرپورٹ پر ایئرلائن کو ٹیسٹ کی رپورٹ جمع کرانی ہوگی۔
سول ایوی ایشن امارات کا کہنا ہے کہ صرف تازہ ٹیسٹ کی رپورٹ قابل قبول ہوگی، 96 گھنٹے سے قبل کروائے گئے ٹیسٹ کے نتائج ناقابل قبول ہوں گے جب کہ یواے ای کی جانب سے مقرر کردہ لیبارٹریز سے ہی پی سی آر ٹیسٹ کروانا لازم ہوگا۔
نئی ٹریول ایڈوائرزہ میں واضح کہا گیا ہے کہ تمام ایئرلائنز مسافروں کے پی سی آر ٹیسٹ کی رپورٹس جمع کروانے کی پابند ہوں گی اور خلاف ورزی پر انہیں 15 روزہ پابندی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
پی سی آر ٹیسٹ کیا ہے؟
عام طور پاکستان سمیت دنیا کے زیادہ تر ممالک میں ’سواب ٹیسٹ‘ یا پی سی آر ٹیسٹ کے ذریعے کورونا کی تشخیص کی جا رہی ہے۔
اس ٹیسٹ کو کرنے کے لیے مشتبہ متاثرہ شخص کے منھ یا ناک کے ذریعے نمونہ لیا جاتا ہے۔
سواب ٹیسٹ ’پولیمریز چین ری ایکشن‘ یعنی پی سی آر ٹیسٹ کے لیے موزوں ہے۔
پنجاب کی سرکاری لیبارٹریوں کی ترجمان رافعہ حیدر نے بتایا کہ اس ٹیسٹ کے دو اہم حصے ہوتے ہیں، ’سب سے پہلے متعلقہ شخص کے نمونے سے آر این اے (یعنی رائیبو نیوکلک ایسڈ) کو نکالنے کا عمل کیا جاتا ہے اور پھر الگ کیے گئے آر این اے کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ جبکہ دوسرے مرحلے میں آر این اے میں وائرس کی موجودگی کو پرکھا جاتا ہے۔

