


واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا میں نسل پرستی کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے والے سیاہ فام رہنما مارٹن کنگ کے ایک تاریخی خطاب کی یاد میں دارالحکومت واشنگٹن میں نسل پرستی کے خلاف ایک بڑا مارچ منعقد کیا گیا۔ امریکا میں نسلی مساوات کے لیے جدوجہد کرنے والے رہنما مارٹن لوتھر کنگ نے 1963ء میں ایک تاریخی خطاب کیا تھا، جسے ’’آئی ہیوو اے ڈریم‘‘ کے نام سے شہرت ملی۔ اس یادگار خطاب کی ستاونویں سالگرہ پر ہونے والے اس مارچ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ یہ مارچ ایک ایسے وقت پر کیا گیا جب امریکا میں نسل پرستی کے خلاف ایک بار پھر عوام کے اندر غم وغصہ پایا جاتا ہے۔ ملک میں سفید فام پولیس افسران کے ہاتھوں سیاہ فام باشندوں کی پے در پے ہلاکتوں نے امریکا کو جھنجھوڑ کر رکھا ہوا ہے۔ امریکا میں سفید فام نسل پرستوں کی شرانگیزی اور اس سے جنم لینے والی پولیس گردی میں سیاہ فام شہریوں کی ہلاکتوں کے باعث کئی ماہ سے ملک بھر میں احتجاج جاری ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو سفید فام نسل پرستوں کا حامی اور پولیس کو شہ دینے والا تصور کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ ’’سیاہ فاموں کی زندگی معنی رکھتی ہے‘‘ تحریک کے نشانے پر رہتے ہیں۔ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب بھی اس تحریک کے حامی سیکڑوں افراد نے ایک بار پھر امریکی صدر کی رہایش گاہ وائٹ ہاؤس کا رخ کیا۔ یہ لوگ ایسے وقت پر وائٹ ہاؤس کے باہر جمع ہوئے، جب ٹرمپ احاطے کے جنوبی لان میں اپنی جماعت ری پبلکن پارٹی کی جانب سے صدارتی امیدوار کے طور پر نامزدگی قبول کرنے کی خوشی منا رہے تھے۔ اس مظاہرے کے لیے سوشل میڈیا پر منظم مہم چلائی گئی تھی کہ لوگ بڑی تعداد میں جمع ہو کر ٹرمپ کی تقریر کے دوران شور شرابا کریں اور اس میں خلل ڈالیں۔ ان مظاہرین کو دور رکھنے کے لیے وائٹ ہاؤس کے احاطے کے گرد اضافی آہنی جنگلا بھی نصب کیا گیا تھا۔ اس دوران مظاہرین نے مختلف نعروں اور مطالبات پر مشتمل بینر اور پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے تھے۔
