بغداد (انٹرنیشنل ڈیسک) عراق میں سیاسی و سماجی کارکنوں، صحافیوں اور ماہرین کی ٹارگٹ کلنگ کے بعد وزارت داخلہ نے حفاظتی اقدامات شروع کردیے۔ خبررساں اداروں کے مطابق بغداد اور بصرہ میں چند ماہ کے دوران ہونے والی ہلاکتوں میں ملوث قاتلوں کو پکڑنے اور غیرقانونی ہتھیاروں و منشیات پر قابوپانے کے لیے کارروائی شروع کردی گئی۔ فوجی حکام کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ ہفتے کو صبح سویرے بغداد کے مشرق میں واقع حسینیہ کے علاقے میں سرچ آپریشن کیاگیا۔ اس علاقے میں کچھ عرصہ قبل تنازعات کے دوران درمیانے اور ہلکے ہتھیاروں کا استعمال دیکھا گیاتھا۔ آپریشن کے دوران شہریوں سے مختلف نوعیت کا اسلحہ برآمد ہوا۔ کارروائی کا دائرہ کار ہر اس علاقے تک پہنچے گا جہاں تنازعات اور لڑائی جھگڑوں کے دوران ہتھیاروں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ بیان میں شہریوں سے اپیل کی گئی کہ وہ اپنی سلامتی اور امن کی خاطر تعاون کریں۔ ادھر جنوبی شہر بصرہ میں بھی آپریشن کا آغاز کردیا گیا۔ بصرہ کے آپریشن کمانڈر اکرم صدام مدنف کا کہنا تھا کہ بصرہ کے جنوب میں کارروائی کے دوران کرفیو نہیں لگایا جائے گا،تاہم مخصوص مقامات پر جزوی ناکابندی کی جائے گی۔
عراقی حکومت نے غیر قانونی اسلحہ ضبط کرنا شروع کردیا
القمر
