کراچی: شوبز فنکاروں نے لاہور موٹروے پر خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کرنے والے ملزمان کو سرِ عام پھانسی دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
لاہور موٹر وے پر گزشتہ روز گوجرانوالہ کی رہائشی ثنا نامی خاتون کے ساتھ افسوس ناک واقعہ اس وقت رو نما ہوا جب لاہور موٹر وے پر اُن کی گاڑی کا پیٹرول ختم ہو گیا۔ اس دوران ملزمان نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے خاتون کو زدوکوب کیا اور گاڑی کے شیشے توڑ کر انہیں گن پوائنٹ پر کھیتوں میں لے جا کر زیادتی کا نشانہ بنایا۔
انسانیت سوز واقعے کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیلی تو ہر جانب سے ملزمان کی گرفتار کے لیے آوازیں اٹھنے لگیں۔ دکھ کی اس گھڑی میں شوبز فنکاروں نے بھی خاتون سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے ملزمان کو سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ کردیا۔
– I will always count on your statement that Pakistan will be “Riasat e Madina” and if you don’t hang these monsters raping and killing children and women in the open nothing can ever be changed … just make one example. Public execution is what I demand @ImranKhanPTI
— Feroze Khan (@ferozekhaan) September 10, 2020
اداکار فیروز خان نے اپنی ٹویٹ میں وزیر اعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں ہمیشہ آپ کے بیان کی تائید کرتا رہوں گا کہ پاکستان ضرور ریاستِ مدینہ بنے گا لیکن اگر آپ بچوں اور خواتین کے ساتھ زیادتی اور بچوں کا قتل کرنے والے ملزمان کو سرعام پھانسی نہیں دیں گے تو کبھی بھی کچھ نہیں بدلے گا۔ اس ضمن میں آپ کو دوسروں کے لیے ایک مثال قائم کرنی ہوگی اور یہی میرا مطالبہ ہے۔
اعجاز اسلم نے پی ٹی آئی کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ آپ کو ان ملزمان کو سرِ عام پھانسی دے کر مثال قائم کرنی ہوگی۔
گلوکار عاصم اظہر نے اپنی ٹویٹ میں ’’زیادتی کرنے والوں کو سرِ عام پانسی دو‘‘ کا ہیش ٹیگ استعمال کرتے ہوئے اپنا موقف پیش کیا۔
#hangrapistspublicly pic.twitter.com/BFWEi8CRYu
— Rabia Anum Obaid (@RabiaAnumm) September 10, 2020
ٹیلی ویژن میزبان رابعہ انعم نے اس ظلم پر آواز اُٹھاتے ہوئے زیادتی کے مرتکب افراد کو سرِ عام پھانسی پر لٹکانے کا کہا۔
#hangrapistspublicly https://t.co/Vo277IGdL6
— Sanam Baloch (@SanamBalochfans) September 10, 2020
اداکارہ صنم بلوچ نے ثناء بُچا کی ٹویٹ کو ری ٹویٹ کرتے ہوئے سرِ عام پھانسی کا ہیش ٹیگ بھی استعمال کیا۔ ثنا بچا کے ٹویٹ میں لکھا تھا کہ ’’واقعے کے بعد موٹروے حکام اپنی حدود کا تعین کرتے رہے اور اس دوران حوا کی بیٹی کی عزت کی حدود پار کی گئی اور ملزمان تو انسانیت کی حدود سے ہی گزر گئے‘‘۔
یہ پڑھیں: لاہور موٹروے پر خاتون سے اجتماعی زیادتی، 12 ملزمان گرفتار
