واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا کے ایک سینئر عہدے دار نے کہا ہے کہ قطر اور دیگر خلیجی ممالک کے درمیان 3 برس سے جاری کشیدگی میں آیندہ چند ہفتوں میں مذاکرات سے بہتری آسکتی ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کے عہدے دار ڈیوڈ شینکر نے دعویٰ کیا ہے کہ چند ہفتوں کے اندر ہی خلیجی ممالک کے آپس میں خراب تعلقات میں بہتری آسکتی ہے۔ واشنگٹن کے بروکنگز انسٹی ٹیوٹ میں ایک تقریب سے خطاب میں مشرق وسطیٰ کے لیے محکمہ خارجہ کے اعلیٰ سفارت کار نے احتیاط برتنے کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں ہوئی ہے، اس لیے جلد ہی کوئی حل نکلے گا۔ واضح رہے کہ 6 جون 2017ء کو سعودی عرب، مصر، بحرین، یمن، متحدہ عرب امارات اور مالدیپ نے قطر پر دہشت گردی کی حمایت کے الزامات عائد کرتے ہوئے سفارتی تعلقات ختم کرنے کا اعلان کردیا تھا۔ ان ممالک نے قطر پر اپنی حدود میں سفارتی، معاشی اور سفری پابندیاں عائد کی تھیں۔ بعد ازاں 23 جون کو سعودی عرب، بحرین، متحدہ عرب امارات اور مصر نے قطر سکے سامنے سفارتی و تجارتی تعلقات کی بحالی کے لیے قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کی بندش سمیت 13 مطالبات پیش کیے تھے، تاہم قطر نے فہرست مسترد کرتے ہوئے انہیں نامناسب اور ناقابل عمل قرار دیا تھا۔ بعد ازاں کویت اور امریکا نے کشیدگی کے خاتمے کے لیے ثالثی کی کوشش کی تھی لیکن ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
قطر اور خلیجی ممالک کی کشیدگی میں جلد کمی آسکتی ہے‘ امریکا
القمر
