English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

امریکہ: پانچ چینی باشندوں پر ہیکنگ کی فرد جرم عائد

امریکہ کے محکمۂ انصاف نے پانچ چینی باشندوں پر ہیکنگ کے الزامات پر مبنی فردِ جرم عائد کر دی ہے۔ تاہم پانچوں ملزم اب تک مفرور ہیں۔

ان چینی شہریوں پر امریکہ اور بیرونِ ملک 100 کمپنیوں اور اداروں کو نشانہ بنانے کے الزامات ہیں جب کہ ہیکنگ کا نشانہ بننے والی متاثرہ کمپنیوں میں سوشل میڈیا، ویڈیو گیمز کی کمپنیاں، یونیورسٹیاں اور ٹیلی کمیونیکیشن کی خدمات فراہم کرنے والی کمپنیاں شامل ہیں۔

واشنگٹن ڈی سی کے محکمۂ انصاف کے قائم مقام اٹارنی مائیکل شیرون نے بدھ کو پریس بریفنگ میں بتایا کہ چین کے جن پانچ باشندوں پر فردِ جرم عائد کی گئی ہے، اُن کا تعلق​APT 41 نامی گروپ سے ہے۔ اس گروپ پر مختلف نوعیت کے کاروباروں کو نشانہ بنانے کے الزامات ہیں۔

حکام کے مطابق اس گروپ کی شناخت ‘مینڈیانٹ تھریٹ انٹیلی جنس’ نامی فرم نے گزشتہ برس کی تھی، جس کے مطابق یہ گروپ مجرمانہ اور جاسوسی سے متعلق آپریشن کی بہترین استعداد رکھتا ہے۔



جوبائیڈن کی صدارتی مہم کے مشاورتی اداروں کو مائیکروسافٹ نے خبردار کیا ہے کہ جن ہیکرز نے 2016 میں امریکی انتخابات کے دوران ہیکنگ کی تھی وہی ہیکرز اب دوبارہ متحرک ہو گئے ہیں۔ (فائل فوٹو)

خبر رساں ادارے ‘اے پی’ کے مطابق چینی ہیکرز پر فردِ جرم کے بعد واشنگٹن ڈی سی میں موجود چین کے سفارت خانے کو بذریعہ ای میل سوالنامہ بھیجا گیا ہے تاہم اس پر فوری طور پر کوئی ردِعمل نہیں آیا۔

پراسیکیوٹرز کے مطابق ملائیشیا کے دو تاجروں پر بھی ہیکنگ کی سازش میں معاونت کے ذریعے منافع کمانے کے الزامات ہیں۔ یہ دونوں تاجر ملائیشیا میں گرفتار ہیں اور اُنہیں امریکہ کے حوالے کرنے پر کام ہو رہا ہے۔

نفاذ قانون کے امریکی حکام نے جولائی میں چین کی حکومت پر الزام لگایا تھا کہ وہ امریکہ میں کرونا وائرس کی ویکسین پر ریسرچ کرنے والی کمپنیوں پر سائبر حملے کر رہا ہے اور اس نے کروڑوں ڈالر مالیت کی ‘انٹلیکچوئل پراپرٹی’ چرانے کی کوشش کی ہے۔



امریکی حکام کے مطابق ہیکرز اس معلومات کو حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو کرونا وائرس کے مریضوں کے علاج اور متاثرہ مریضوں کے ٹیسٹ سے متعلق ہیں۔ (فائل فوٹو)

اگرچہ امریکہ کی جانب سے چین پر جولائی میں عائد کردہ الزامات کا تعلق عالمی وبا سے تھا۔ مگر بدھ کو جن چینی ہیکرز پر فردِ جرم عائد کی گئی ہے اُن کی ہیکنگ کا فائدہ چین کو حاصل ہوا ہے۔

امریکی محکمۂ انصاف نے ہیکرز کے گروہ کا تعلق براہِ راست چینی حکومت سے ہونے کا دعوی تو نہیں کیا مگر اس نے یہ کہا ہے کہ ان ہیکرز نے انہیں نشانہ بنایا جس میں چینی حکومت کا مفاد تھا۔ ان میں تائیوان یونیورسٹی میں جمہوریت پسند کارکن اور طلبہ بھی شامل ہیں۔

ڈسٹرکٹ آف کولمبیا کے قائم مقام اٹارنی جنرل مائیکل شیرون کا کہنا ہے کہ ہیکرز کے حملوں میں جاسوسی پر مبنی کچھ حملے بھی شامل ہیں جو اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ ان کا بالواسطہ تعلق چینی حکومت سے ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے