حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر) حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے صدر سلیم الدین قریشی نے چینی اور آٹے کے بعد گندم، کھاد اور قدرتی گیس کے بحران کو تشویشناک قرار دیا ہے اور اُسے بروقت منصوبہ بندی نہ کرنے سے تعبیر کیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ گندم اور گیس کے ایک ساتھ بحران عوام کا جینا محال بنا دے گا۔ سردیوں کی آمد آمد ہے اور ایسے میں خوراک اور گیس کی کمی لوگوں کی زندگی کو اجیرن بنا کر رکھ دے گی تو دوسری جانب انڈسٹری اور بجلی کے بہت بڑے بحران کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔ گندم کو اِس کے سیزن میں ٹارگٹ کے مطابق نہ خرید کر حکومتوں نے اپنی غلط منصوبہ بندی سے یہ بحران پیدا کیا ہے ورنہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور ضرورت سے زائد گندم کی پیداوار کے باوجود دوسرے ممالک کو ایکسپورٹ کردینے سے یہ صورتحال پیدا ہوئی۔ اُنہوں نے کہا کہ ستمبر 2020ء میں افراطِ زر کی شرح 9.04 فیصد ہوگئی ہے۔ پاکستان زرعی ملک ہونے کے باوجود 180,000 ٹن گندم اور 50 ہزار ٹن چینی امپورٹ کرنے کی اقتصادی کونسل نے منظوری دی ہے جو انتہائی افسوس کی بات ہے۔ اَب وزیر اعظم نے گیس کی آنے والے وقت میں بحران کی خبر دے دی ہے جو مشیران کی جانب سے منصوبہ بندی کی صلاحیت نہ ہونے کی خبر دیتی ہے۔ اُنہوں نے مطالبہ کیا کہ وہ گندم، آٹے، کھاد اور گیس کے بحران پر قابو پانے کے لئے اہل افراد سے مشاورت کرے اور اِس بحران کو ختم کرنے کے لئے ٹیکسوں میں چھوٹ دے تاکہ اِن خطرناک بحرانوں سے ملک کو نکالا جاسکے اور ملک میں انتشار اور بے سکونی کی فضاء کو کم کیا جاسکے۔
