لندن (انٹرنیشنل ڈیسک) شمالی کوریا کی جانب سے گزشتہ ہفتے کے آخر میں منظر عام پر لائے گئے نئے بیلسٹک میزائل کا حجم اور اس سے متعلق دعوے جان کر ماہرین حیران ہوگئے ہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق کم جونگ ان نے رواں برس یکم جنوری کو اعلان کیا تھا کہ شمالی کوریا ایک جدید نظام بنا رہا ہے، جو صرف ترقی یافتہ ممالک کے پاس ہے۔ اسٹریٹیجک سے ان کی مراد جوہری ہتھیار تھا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا جیسے جیسے شمالی کوریا کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے میں وقت لے گا، ویسے ہی شمالی کوریا کے سامنے خود کو کمزور ہوتا محسوس کرے گا۔ شمالی کوریا کے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل (آئی سی بی ایم) سے متعلق ماہرین کا کہنا ہے کہ پیانگ یانگ ’’ہواسونگ 14‘‘ کو 2017ء میں ٹیسٹ کر چکا ہے، جو 10 ہزار کلومیٹر تک جا سکتا ہے اور تقریباً پورے مغربی یورپ تک پہنچ سکتا ہے۔ ساتھ ہی تقریباً نصف امریکا میں ایک جوہری حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے بعد ’’ہواسونگ 15‘‘ کا تجربہ کیا گیا جس نے 13 ہزار کلومیٹر کا سفر طے کیا اور وہ امریکا میں کسی بھی مقام پر جوہری حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، تاہم حالیہ نمایش میں منظر عام پر لائے گئے جدید ترین اور حجم میں غیر معمولی بڑے بیلسٹک میزائل کا تجربہ تاحال نہیں کیا گیا، مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے شمالی کوریا کے ارادے واضح دیکھے جا سکتے ہیں۔ شمالی کوریا ایک میزائل سے ایک سے زائد حملے کرنے کی تیاری کررہا ہے جب کہ اسے رینج (پہنچ) بڑھانے کی ضرورت نہیں ہے۔
شمالی کوریا کا نیا ہتھیار بیک وقت کئی حملے کرسکتا ہے‘ رپورٹ
القمر
