لاہور( نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ جو کام حکومتی مشینری کے کرنے والے ہیں ، وہ ٹائیگر فورس کو دے کر وزیراعظم خود ہی ملک میں افراتفری اور انتشار کو دعوت دے رہے ہیں ۔ حکومتی ٹائی ٹینک مہنگائی کے سونامی میں غوطے کھا رہاہے ۔ عوام کو ریلیف دینے کے سبز باغ دکھانے والوں نے غریب کو مہنگائی کے بھنور میں پھنسا دیا ہے ۔ حکومت نے مہنگائی کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں ۔ عوام کی فریادسننے والا کوئی نہیں ۔ دن بدن مہنگائی کا گراف اوپر اور حکومت کا گراف نیچے جارہا ہے ۔ وہ دن دور نہیں جب حکومت خود مہنگائی کے بوجھ تلے دب جائے گی۔ حکومت کو اندازہ ہی نہیں کہ عوام مہنگائی کے ہاتھوں کس قدر پریشان ہیں۔ وزیراعظم مافیاز کے گھیرے کا اعتراف کرنے کے باوجود آج تک ان مافیاز کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھا سکے ۔ آٹا، چینی ، ڈرگ اور لینڈمافیاز مہنگائی کے اصل ذمے دار ہیں ۔ 13 فیصد عوام مہنگائی کی وجہ سے خط غربت سے نیچے چلے گئے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے المرکز اسلامی پشاور میں علما و فضلا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ آئین کا تقاضا ہے کہ قرآن و سنت کی تعلیم کو عام کیا جائے اور ایسا ماحول فراہم کیا جائے جس میں وہ آسانی کے ساتھ اپنے دین پر عمل پیرا ہوکر قرآن و حدیث کے مطابق اپنی زندگی گزار سکیں ۔پاکستان ایک نظریاتی ملک ہے اس کی شناخت کو قائم رکھنا اور نئی نسل کو اس کے مطابق پروان چڑھانا ہماری ذمے داری ہے ۔ مغربی این جی اوز محض ڈالرز کے حصول کے لیے پاکستان کے نظریاتی تشخص کو مٹانے پر تلی ہوئی ہیں اور مساجد و مدارس کے خلاف زہریلا پروپیگنڈا کیا جاتاہے تاکہ وہ قال اللہ و قال رسول ؐکی آوازوں کو دبا سکیں ۔ حکومت مدارس کے ساتھ معاندانہ رویہ ترک کرے ۔ انہوں نے کہاکہ تعلیمی بجٹ میں مدارس کا بھی حصہ رکھا جائے اور مدارس میں پڑھنے والے 31 لاکھ طلبہ کو پاکستانی سمجھا اور ان کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک بند کیا جائے ۔

