ڈی چوک اسلام آباد میں لیڈی ہیلتھ ورکرز کے دھرناکا آج پانچواں دن ہے۔ کھلے آسمان تلے بچوں کے ساتھ بیٹھی یہ ہیلتھ ورکرز اپنے لیے سروس اسٹرکچر کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ دس نکاتی ایجنڈہ پرمشتمل مطالبات کی منظوری خاص کر سروس اسٹرکچر اور ریلیف کے نوٹیفکیشن کے بغیر ڈی چوک سے نہیں جائیں گے۔حکومتی ٹیم کے خالی وعدوں سے اب کام نہیں چلے گا۔ متعلقہ حکام سے ہونے والے مختلف مذاکراتی دور تاحال نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئے۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے لیڈی ہیلتھ ورکرز کی رہنما رخسانہ ا نور سے ملاقات کے بعد کہا کہ مطالبات نوٹ کر لیے ہیں اور وزیر اعلی ٰ پنجاب سردارعثمان بزدار سے بات چیت کر کے معاملہ حل کیا جائے گا۔
دوسری طرف لیڈی ہیلتھ ورکرزکےپانچویں دن میں داخل ہونے والے اس دھرناسے اسلام آباد انتظامیہ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔جناح ایوینو کےاطراف ٹریفک کی روانی برقراررکھنے کے لیے متبادل راستے دینے پڑ رہے ہیں جس سے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔مناسب انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے خواتین کو بنیادی ضروریات کی تکمیل میں تنگی کا سامنا ہے۔
لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام کیا ہے؟
پاکستان میں1994 میں شروع کیا جانے والا لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام کمیونٹی ہیلتھ کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔چاروں صوبوں اور گلگت بلتستان میں اس پروگرام کی جڑیں کمیونٹی میں دور تک پھیلی ہیں۔ 2005 تک لیڈی ہیلتھ ورکرز کی تعداد ایک لاکھ تک پہنچا نے کا ٹارگٹ تھا۔محکمہ صحت کے زیر نگرانی کام کرنے والی یہ تربیت یافتہ عملہ اپنے گھروں سے دور دراز کے علاقوں میں لوگوں اور خاص طور پر خواتین کو بنیادی صحت و صفائی اورماں بچے کی صحت اور بیماریوں کے بارے میں آگاہی دیتی تھیں۔تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی اہمیت اور افادیت نے ان کی ذمہ داریا ں بہت بڑھا دی ہیں۔
ہر لیڈی ہیلتھ ورکراپنےعلاقہ میں ایک ہزارافرادکی ذمہ دار ہوتی ہے اور روزانہ تقریباً27 گھروں کو یہ دیکھتی ہےاوراہلخانہ کی صحت کا تمام ریکارڈرکھتی ہے۔خاندانی منصوبہ بندی اور ماں بچے کی صحت سے کام شروع کرنے والی لیڈی ہیلتھ ورکر اس وقت کمیونٹی ہیلتھ کے 22سے زیادہ منصوبوں پر کام کررہی ہیں۔ جن میں خاندانی منصوبہ بندی،ماں بچے کی صحت،نوزائیدہ بچوں کی صحت، بریسٹ فیڈنگ،ملیریا، نمونیا، سانس کی تکالیف، پیٹ کی بیماریاں،نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے مسائل،ٹی بی سے بچاؤ اور علاج،یرقان کی آگاہی اور پرہیز،آنکھوں کے مسائل،ذیابیطس، پولیو اورکورونا وغیرہ شامل ہیں۔یہ ان تما م بیماریوں کے بارے میں معلومات دیتی ہیں،بنیادی علاج کرتی ہیں اور ضرورت پڑنے پر متعلقہ اسپتال ریفر کر دیتی ہیں۔ پولیو کے لیے لیڈی ہیلتھ ورکرز کی خدمات کو جتنا سراہا جائے کم ہے۔ اس ذمہ داری کی انجام دہی میں کئی لیڈی ہیلتھ ورکرزجان سے ہاتھ دھو بیٹھیں جبکہ بہت سوں کو کمیونٹی کے تلخ و ترش رویے کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔

لیڈی ہیلتھ ورکرز کی تنخواہ اور اسکیل
لیڈی ہیلتھ ورکرزکو ان تمام خدمات کےعوض ملنے والا معاوضہ بہت واجبی ہے۔اتنے طویل عرصہ سے محکمہ صحت کی زیر نگرانی کام کرنے کے باوجود ان کے لیے سروس اسٹرکچرترتیب نہیں دیا گیا ۔زیادہ تر ہیلتھ ورکرز پانچویں اسکیل میں کا م کررہی ہوتی ہیں اوراسی میں ریٹائرڈ ہو جاتی ہیں۔ 2015 میں لیڈی ہیلتھ ورکرزکے
سروس اسٹرکچر کے مسلسل مطالبہ کے بعد خیبر پختو نخوا حکومت کے ہیلتھ منسٹر نے تنخواہوں میں اضافہ کی ایک سمری منظورکی اور وفاقی حکومت سے 2 ارب 40 کروڑ روپے کا مطالبہ کیا تاکہ مجوزہ تنخواہیں ادا کی جا سکیں۔ خیبر پختونخوا پہلا صوبہ ہے جہاں لیڈی ہیلتھ ورکرز کے لیے سروس اسٹرکچر کے مطالبہ کو تسلیم کیا گیا۔2018 میں سپریم کورٹ کی ایک رولنگ پرعمل کرتے ہوئے کے پی گورنمنٹ کے فنانس ڈیپارٹمنٹ نے ایک نوٹیفیکشن جاری کیا جس کے مطابق لیڈی ہیلتھ ورکرز اوران کی سپروائیزرز کو تجربہ اور قابلیت کی بنیاد پر بنیادی پے اسکیل کے تحت گریڈ پانچ ،سات اورنو میں اپ گریڈ کیا گیا تھاتاہم تنخواہوں کی بروقت ادائیگی،اضافی الاؤنسزاورپنشن کا نہ ہونا ہمیشہ مسئلہ رہا۔ پنجاب اور دیگر صوبوں میں حالات اس سے زیادہ دگر گوں ہیں۔
ڈاکٹر یاسمین راشد کا اعتراض
پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے پراجیکٹ شروع ہونے کے اٹھائیس سال بعدلیڈی ہیلتھ ورکرز کی تعلیمی قابلیت پر سوال اٹھا تے ہوئے اسے کم تنخواہ کا سبب قرار دیا۔چونکہ اٹھارویں ترمیم کے بعد اب صحت صوبائی حکومت کا معاملہ ہے اس لیے وفاقی حکومت اس کو حل کرنے میں دلچسپی نہیں لیتی۔
رخسانہ انور کیا کہتی ہیں؟

رخسانہ انور
گزشتہ پانچ دنوں میں دھرنا میں آنے والے اپوزیشن رہنماؤں رضا ربانی،عائشہ گلالئی، مہناز عزیز،ڈاکٹرسلمان حسیب نے مہنگائی کے تناسب سے تنخواہ اور مراعات میں اضافہ کا مطالبہ جائز قرار دیا اور لیڈی ہیلتھ ورکرز کے ساتھ اظہار یک جہتی کیاتاہم لیڈی ہیلتھ ورکرز نے اپنی اس جد وجہد کو کسی قسم کی سیاست کی نذر کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اب تک مختلف بیوروکریٹس نے لیڈی ہیلتھ ورکرز سے بات چیت کی ہے لیکن رخسانہ انور کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کے پاس ہمارے مسائل کا کوئی حل نہیں ہےبہتر ہو گاکہ وفاقی حکومت کے ذمہ داران ہی ہمارے مسائل کے حل کے لیے رجوع کریں۔انہوں نے الزام لگایا کہ وفاقی حکومت صحت کے نام پر عالمی اداروں سے کروڑوں ڈالر امداد وصول کرتی ہے لیکن لیڈی ہیلتھ ورکرز کے جائز مطالبات کے لیے ان کے پاس رقم نہیں ہے۔
لیڈی ہیلتھ ورکرزاور دیگر سرکاری ملازمین ہرسال احتجاج کرتے ہیں ،سڑکوں پر آتے ہیں دھرنے دیتے ہیں اور پھر یقین دہانیوں اور کسی حد تک مطالبات پورا ہونے پر اٹھ جاتے ہیں لیکن یہ مسئلہ کا حل نہیں۔تحریک انصاف کی حکومت کواس حوالے سے ایسے دوررس اقدامات کرنے چاہیں جس سے مہنگائی سے پریشان عوام احتجاج پرمجبور نہ ہوں اور ہمیں ہر چند مہینوں بعد یہ نعرہ سننا نہ پڑے کہ ساڈا حق ایتھے رکھ۔
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com
اتوار،18 اکتوبر2020
