اسلام آباد: لیڈی ہیلتھ ورکرز کے حکومت کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہوگئے جس کے بعد انہوں ںے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کردیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق اسلام آباد ڈی چوک پر اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے بیٹھی لیڈی ہیلتھ ورکرز نے وفاقی وزیر علی محمد خان کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کرنے کا اعلان کردیا۔
یہ فیصلہ وفاقی وزیر علی محمد خان کی زیر نگرانی اجلاس میں کیا گیا۔ فیصلہ کیا گیا کہ خواتین ہیلتھ ورکرز کے 10 مسائل تین ماہ کے اندر حل کیے جائیں گے جس کے لیے کمیٹی بنائی جائے گی اوراس میں تمام صوبوں کی نمائندگی شامل ہوگی۔
اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں وزیر پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا کہ آخر کیا وجہ تھی کہ ہماری بہنوں کو یہاں آنا پڑا، ان کے مطالبات سنے گئے ، حکومت انہیں یقین دلاتی ہے کہ ان کے مطالبات تسلیم ہوں گے، وزیر اعظم نے جو کیمٹی بنائی ہے وہ ان کے مسائل حل کرے گی۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ ہم نے انتظامیہ کو طاقت کا استعمال نہ کرنے کا کہا تھا، ہمیں خوشی تب ہوگی جب 3 ماہ میں مطالبات کو حتمی طور پر منظور کرلیا جائے گا۔

دھرنے کا پس منظر
اسلام آباد میں ڈی چوک پر لیڈی ہیلتھ ورکرز کا دھرنا چھ روز تک جاری رہا۔ اس دوران پولیس نے دھرنے کی طرف جانے والے تمام راستے کنٹینر اور خاردار تاروں سے سیل کردیے۔ چھٹے روز لیڈی ہیلتھ ورکرز نے اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے کا اعلان کیا اور ان کی پولیس کے ساتھ جھڑپ بھی ہوئی۔
پولیس نے مزید لیڈی ہیلتھ ورکرز کو دھرنے کی طرف آنے سے روکنے کی کوشش کی تو ہیلتھ ورکرز اشتعال میں آگئیں اور ان کے پولیس کے ساتھ جھڑپ ہوئی اور ہیلتھ ورکرز نے پولیس کی سیفٹی کٹس کو کھینچ کر پھینک دیا۔
لیڈی ہیلتھ ورکرز نے حکومت اور پولیس کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے پولیس پر ڈی چوک جانے سے روکنے کا الزام لگایا۔ دھرنے کے باعث اسلام آباد میں میٹرو بس سروس بھی معطل ہوگئی۔ لیڈی ہیلتھ ورکرز نے چھٹے روز پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم علی محمد خان سے مذاکرات کامیاب ہوگئے جس کے بعد انہوں نے دھرنا ختم کردیا۔
