


بدین (نمائندہ جسارت) بدین بھر کے یوٹیلیٹی اسٹوروں پر گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے چینی اور آٹا غائب جبکہ دیگر سامان بازار والے نرخوں پر دستیاب، عوام یوٹیلیٹی اسٹوروں کے بجائے بازاروں سے روزمرہ کی اشیاء خریدنے لگے۔ گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے بدین شہر کے یوٹیلیٹی اسٹوروں سے چینی اور آٹا غائب ہونے کے بعد شہری اور دیہاتی چینی اور آٹا خریدنے کے لیے ہر دوسرے دن یوٹیلیٹی اسٹوروں کا چکر کاٹ کاٹ کر تھک گئے، ڈیڑھ ماہ گزر جانے کے باوجود بھی چینی اور آٹا یوٹیلیٹی اسٹوروں پر نہیں آیا۔ شہریوں اور دیہاتیوں نے اس سلسلے میں بتایا کہ گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے یوٹیلیٹی اسٹوروں کے چکر کاٹے مگر چینی اور گندم کا آٹا نہیں آیا مگر یوٹیلیٹی اسٹوروں پر بیٹھے ہوئے منیجرز نے ہمیں بتایا کہ چینی اور گندم کا آٹا آتا ہے وہ جلد ہی فروخت ہوجاتا ہے جبکہ ہم لوگ ہر دوسرے دن شہر کے ہر یوٹیلیٹی اسٹوروں کے چکر لگاتے ہیں، ہمیں جواب دیا جاتا ہے کہ دو دن کے بعد چینی اور آٹا آیا گا مگر ہمیں نہیں ملتا، ہم نے اب تو یوٹیلیٹی اسٹوروں پر جانا چھوڑ دیا ہے، ہم روز مرہ کی اشیاء بازاروں سے مہنگے داموں خرید لیتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے دیگر سامان پر حکومت کی جانب سے سبسڈی ختم کردی گئی ہے، اس لیے لوگ ہمارے یہاں سے چینی اور آٹا خریدتے جبکہ باقی سامان بازاروں سے خریدتے ہیں۔ شہریوں اور دیہاتیوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع بھر کے یوٹیلیٹی اسٹوروں پر چینی اور آٹے کی قلت کا نوٹس لے کر چینی اور آٹا فراہم کرکے شہریوں کا دیرینہ مطالبہ حل کیا جائے۔
