English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کیا کروناکے خاتمے کےلیےٹیسٹنگ اورکونٹیکٹ ٹریسنگ کا عمل کافی ہے؟ شفقناخصوصی تجزیہ

القمر

کرونا وائرس وبا کےخاتمے کےلیے کی جانے والی کوششوں سے ہمیں بہت ساری غلطیوں کی نشاندہی میں مدد ملی ہے۔ اس وبا کے خاتمے کےلیے جو طور طریقے اپنائے گئے ہیں‌وہ زیادہ غیر سائنسی اور غیر حقیقی ہیں اور نفع نقصان کی جمع تفریق کے بغیر اپنائے گئے ہیں۔ اور سب سے اہم چیز یہ تمام طریقے نہ صرف اپنی تشکیل، عمل درآمد اور اثر پذیری میں غیر منصفانہ ہیں اور ان طریقوں سے کرونا کو ختم کرنے کی بجائے اس میں‌اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ درحقیقت یہ تمام طریقے علامتی نشانات کے طور پر اختیار کیے گئے ہیں جن کا مقصد محض طفل تسلی ہے۔

کرونا وبا کی روک تھام کے لیے لیے گئے حالیہ اقدامات بذات خود مسائل میں‌اضافے کا سبب ہیں‌کیونکہ ان طور طریقوں‌کی وجہ سے کرونا کے خاتمے کے پائیدار طور طریقوں کو سمجھنے میں‌رکاوٹ کا سامنا ہے۔ طویل ترین لاک ڈاؤن اوروسیع پیمانے پر کنٹیکٹ ٹریسنگ نہ صرف انتہائی مہنگے بلکہ بدحواسانہ اقدامات ہیں۔

کنٹیکٹ ٹریسنگ اور تنہائی، یعنی ٹیسٹ اینڈ ٹریک ایسے اقدامات ہیں جن کو کرونا کی روک تھام میں‌بنیادی اہمیت کا حامل جانا جاتا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں‌کہ اس بات پر اتفاق رائے ہے کہ کنٹیکٹ ٹریسنگ کرنوا کے خاتمے میں‌بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ اگرچہ ماہرین اس بات پر متفق ہیں‌تاہم کنٹیکٹ‌ ٹریسنگ بعض اوقات ناکافی شواہد کی بنیاد پر بھی عمل میں‌لائی جاتی ہے جس سے یہ سارا عمل مشکوک ہوجاتا ہے۔ اس کے علاوہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کا یہ بھی ماننا ہے کہ ایک بڑے پیمانے پر کونٹیکٹ ٹریسنگ بہت سارے اخلاقی مسائل کو بھی جنم دیتی ہے جیسا کہ معلومات کو لیک آؤٹ ہونا،اور ذرائع کا ناکافی استعمال بشمول انسانی ذرائع۔

قدرتی طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر گزشتہ چند ماہ میں‌ایسے کون سے نئے ثبوت ملے ہیں‌جن سے ثابت ہوتا ہے کہ کونٹیکٹ ٹریسنگ کا عمل کرونا کے خاتمے میں مددگار ہے ؟اس سوال کا جواب بہت اہم ہے کیوںکہ ہمیں سالہا سال کا علم اور تجربہ یہ بتاتا ہے کہ اگر ایک مرتبہ سانس کے وائرس کی ٹرانسمیشن شروع ہو جائے تو اس کو ٹریس کرنا ایک بے معنی عمل رہ جاتاہے۔ سارس-کوڈ 2 کے بارے میں جہاں بہت ساری باتیں‌مشہور ہیں وہاں ایک بات یہ ہھی ہے کہ یہ وائرس نئی طرز کا ہے۔ اور اس کے انوکھے ہونے کی وجہ سے وبا کنٹرول کے تمام تر پرانے طریقے بے کار دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم جنیاتی طور پر یہ دیگر کرونا وائرسزجیسا کہ رائنووائرس اور انفلوئنزا وائرسسے کچھ زیادہ مختلف نہیں۔ اس لیے ان وائرسز کی طرح اس میں‌بھی یہی خاصیت ہے کہ ایک مرتبہ یہ پھیلنا شروع ہواجائے جیسا کہ برطانیہ اورامریکہ میں ہوا تو اس کو روکنا ناممکن ہوجاتا ہے۔ صحت مندافراد کو متاثرہ افراد یا خطرے میں گھرے ہوئے افراد سے الگ کرنا اور ان کو تلاش کرنا ایک دقت طلب اور مہنگا کام ہے ۔

کرونا سٹریٹیجی اورمسائل

روایتی کیسوں میں کونٹیکٹ ٹریسنگ کے لیے رابطے کے جال کو استعمال کر کے مرکز تک پہنچا جاتا ہے یعنی کہ انڈیکس کیس کو پکڑاجاتا ہے اور اس انڈیکس کیس کو بیک ورڈ ٹریسنگ بھی کہاجاتا ہے۔ کرونا کے لیے اس عمل کو الٹا کر دیا گیا ہےاور ریورس ٹریسنگ کی بجائے فارورڈ ٹریسنگ کا عمل کیا جاتا ہے۔ اور رابطوں کے جال کا نقشہ بنایاجاتا ہے، اس کو ٹیسٹ کیا جاتا ہے اور اگر اس کو متاثرہ پایا جائے تو قرنطینہ میں‌ڈال دیا جاتاہے۔ جب وبا بہت زیادہ پھیل جائے اس طرح کی نقشہ سازی کسی بھی علاقے میں لوگوں‌کی ایک بڑی تعداد کو جانچنے اور ٹریسنگ کے لیے استمعال ہوتی ہے۔ حقیقت میں یہ ناممکن عمل ہے کہ تمام کیسز کو جانچا جا سکے چاہے صحت کا کوئی نظام کتنا ہی بہترین کیوں نہ ہو اوراس کی ٹیسٹنگ صلاحیت کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو۔

ہم کسی بھی آبادی میں متعدی کسیز کی ایک بڑی تعداد کو نہ تو ٹریس کر سکتے ہیں‌اور نہ ہی ایسے کیسز کو فوری طور پر ٹیسٹ کر سکتے ہیں۔ اگر یہ سب نہیں ہوسکتا تو کونٹیکٹ ٹریسنگ کا مقصد کیا ہے؟‌ایک دلیل جو اس ضمن میں بار بار دی جاتی ہے وہ کسی چیز کے منبع پر توجہ مرکوز کرنا ہے یعنی کہ ایسی جگہ تلاش کرنا جہاں پریہ متعدی مرض جمع ہے۔ تاہم اس منبع کو روکنا یا ختم کرنا ایسا ہی ہے جیسا کہ کسی لہر کو کنکری سے روکنا کیونکہ کوئی بھی منبع بنیادی طور پر ٹیسٹینگ صلاحیت کا جزوی عمل ہوتا ہے خاص طور پر ترقی پزیر ممالک میں۔ ایک اوردلچسپ بات یہ ہے کہ جب کہیں مثبت کیسز کا اکٹھ نظر آتاہے تمام تر ذرائع کا رخ اسکی طرف ہوجاتا ہے جبکہ دوسری جانب ایسے کئی اکٹھ نظر انداز ہوجاتےہیں اوروائرس پھیلانے کا عمل جاری رکھتے ہیں۔

آلات کے استعمال میں‌مسائل

ایک بڑی آبادی کی ٹیسٹنگ ایک بڑے مسئلے کا چھوٹا جزوہے۔بہت سارے ممالک میں‌کونٹیکٹ ٹریسنگ کے تمام تر عمل کا انحصار آرٹی- پی سی آر ٹیسٹنگ پر ہوتا ہے۔ جب کہ یہ ٹیسٹ اپنی درستی اور غیر مؤثرہونے کی وجہ سے سب سے زیادہ تنقید کی ذد میں ہے اس لیے اس کے نگرانی کے مقاصد میں‌استعمال پربھی سخت تنقیددیکھنے کو ملی ہے۔ ایسے وقت میں جب علامت صرف33 فیصد ہوں یہ ٹیسٹ ان کو 100 فیصد دکھاتا ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ یہ ٹیسٹ ایک وسیع پیمانے پر غلط کونٹیکٹ ٹریسنگ دکھا سکتا ہے۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ کسی بھی مشتبہ کونٹیکٹ کے متاثرہ ہونے سے قبل اس کے بہت سارے دیگر ٹیسٹ کرنا پڑیں گے۔

مزید برآں غلط مثبت نتائج بھی ایک مسئلہ ہے۔ سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول کی ہدایات کے مطابق علامات ظاہر ہونے کے دس دن بعد لوگوں کا ٹیسٹ نہیں لینا چاہیے اور دس دن بعد وہ اپنی معمول کی زندگی کی طرف لوٹ سکتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ٹیسٹ غیر متحرک آر این اے کو اٹھا لیتا ہے اور مثبت نتائج دے دیتا ہے اور یہ آر این اے پچاس دن تک یونہی پڑا رہتا ہے اور مثبت نتائج دیتارہتاہے۔

مزید برآں غلط مثبت نتائج اس ٹیسٹ کی فطرت کی وجہ سے بھی ہیں کیونکہ دیکھا گیا ہے کرونا کا وبائی وائرس 25 چکروں کے بعد بہ مشکل ظاہرہوتا ہے اور اس کے لیے 35 سے 40 چکر ہونا لازم ہے جو اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ یہ غلط تشخیص بہت حد تک ممکن ہے۔ درحقیقت دنیا میں‌ابھی تک کرونا کی تشخیص کے لیے کوئی موثر آلات موجود نہیں ہیں اور زیادہ تر ٹیسٹنگ غیر یقینی ہے اور اندازوں کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ غلط اور درست کیسز میں‌فرق کرنے میں‌ناکامی سے عوام میں بھی شدید پریشانی پائی جاتی ہے اور یہ حکومت کی غلط پالیسیوں کی نشاندہی بھی کرتی ہے۔

اخلاقی خدشات

اخلاقی خدشات

کونٹیکٹ ٹریسنگ وباکی ابتدائی فیز میں ایک بے ثمرکوشش ہے تاہم وقت کے ساتھ اس کی اپنی ایک اہمیت ہے۔ دوسرے لفظوں میں‌یہ کسی بھی مقامی جگہ سے وبا کے خاتمے میں‌مفید ثابت ہوسکتی ہے ابتدائی مرحلے پریہ ایک مفید ٹول تبھی ثابت ہوسکتا ہے جب اس کو پوری قوت سے استعمال کیا جائے۔ جسیا کہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں‌ہم نے دیکھا۔ تاہم کوئی بھی کونٹیکٹ ٹریسنگ سٹریٹیجی بہت سارے مسائل کو جنم دیتی ہے جیسا کہ شخصی آزادی اور اطاعت۔ بہت سارے لوگ اپنے معمولات بتانے سے گریز کرتے ہیں اوران مقامات کا تذکرہ کرنے سے ہچکچاتے ہیں جہاں‌جہاں‌وہ گئے تھے۔ اس کے علاوہ یہ طبی رازداری کے عمل کے بھی خلاف ہے۔ ایک اورانسانی حقوق کا مسئلہ جو اس سے جڑاہےوہ قرنطینہ بھی ہے کیونکہ کم تنخواہ دارطبقہ روزمرہ کام کرکے اپنی زندگی کا گزارا چلاتا ہے اوران کو قرنطینہ میں بندکرکے انہیں بھوکا نہیں مارا جاسکتا۔ اس کے علاوہ لوگوں کو زبردستی کروناٹیسٹ پر مجبورکرنا بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے

ایسی صورت میں جب ایک وسیع آبادی کی مہنگے داموں سکریننگ کی جائےاورکونٹیکٹ ٹریسنگ کا عمل آرٹی پی سی آرٹیسٹنگ کے ذریعے کیا جائے جوکہ بغیرعلامات کےسینکڑوں کیسز کو چھوڑدے اور بہت سارےدیگرافراد کی غلط تشخیص کرے تو یہ سارا عمل بے سود دکھائی دیتاہے۔ ہم اس وبا کے ابتدائی دورمیں نہیں ہیں۔ ایک دفعہ معاشرتی سطح پر اس کی نشریات شروع ہوجائیں تو کونٹیکٹ ٹریسنگ کاعمل ایسے ہی ہے جیسا کہ کسی تیزترین گھوڑے کےساتھ سومیٹرکی دوڑلگانا۔ اس لیے ترقی پذیرممالک میں جو ذرائع کونٹیکٹ ٹریسنگ پر ضائع کیے جائیں وہ بہترہےکہ لوگوں کے رویوں کی بہتری پرخرچ کیے جائیں تو بہتری کی امیدرکھی جاسکتی ہے۔

 

ہفتہ ، 5 دسمبر2020

شفقنااردو

ur.shafaqna.com

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے