English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

موبائل فون جرائم میں اضافے کا سبب ہے ، وزیر اعظم

 

اسلام آباد (خبر ایجنسیاں)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اپوزیشن کے جلسوں سے دبائو میں نہیں آئوں گا، اگر کرسی چھوڑنی پڑی تو چھوڑ دوں گا لیکن این آر او نہیں دوں گا، اپوزیشن کو پارلیمنٹ میں عوامی مسائل کو زیر بحث لانے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، اپوزیشن والے بات ہی نہیں کرنے دیتے اور این آر او مانگتے ہیں،پی ڈی ایم کو لاہور جلسے کی اجازت دیں گے نہ رکاوٹ ڈالیں گے ،منتظمین کے خلاف مقدمہ درج ہوگا،ہمارے معاشرے میں جرائم میں
اضافہ ہور ہا ہے ،موبائل فون کے غلط استعمال نے تباہی مچا دی ہے ، بچے وہ چیزیں دیکھ رہے ہیں جس کا تصور نہیں کیا جا سکتا،جب خاندانی نظام تباہ ہوتا ہے تو ریاست نہیں رہتی۔ ان خیالات کا اظہار وزیراعظم عمران خان نے نجی ٹی وی کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔وزیر اعظم نے کہا کہ میں پبلک آفس ہولڈر نہیں تھا لیکن اپنی صفائی میں 9 مہینے عدالت میں صفائی دیتا رہا اور میں نے عدالت میں منی ٹریل دی۔انہوں نے کہا کہ اگر این آر او دینا ہے تو سب سے پہلے مجبوری کی حالت میں لاکھوں روپے کی چوری کرنے والے زیر حراست کمزور افراد کو دیا جائے۔وزیر اعظم نے کہا کہ اگر وزارت عظمیٰ کی کرسی چھوڑنی پڑی تو چھوڑ دوں گا لیکن این آر او نہیں دوں گا۔عمران خان نے میڈیا پر محتاط انداز میں تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک میڈیا ہاؤس اور کچھ صحافی ہیں جو مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کو بچانے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں اور وہ عدالت میں چلے گئے اور استدعا کی کہ سابق وزیر اعظم کو تقریر کا موقع دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ میڈیا سے تعلق رکھنے والے بعض صحافیوں نے اسے آزادی اظہار قرار دیا جبکہ عدالت نے نواز شریف کو سزا سنائی اور وہ مجرم ہیں جس کے لیے مخصوص میڈیا اپنی وفاداری ظاہر کر رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کرپشن صرف احتساب کرکے ختم نہیں کی جاسکتی، پورا معاشرہ کردار ادا کرتا ہے۔انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور لندن میں رہائش پذیر اسحٰق ڈار سے متعلق کہا کہ آپ نے اسحٰق ڈار کو دیکھ لیا انہوں نے انٹرویو میں کیا باتیں کیں؟ان کا کہنا تھا کہ پبلک فنڈز چوری کرنے والا برطانیہ میں کوئی میڈیا اور پارلیمان میں نہیں جاسکتا۔وزیراعظم نے اپوزیشن پر واضح کیا کہ ان کو لگتا ہے کہ ان کے جلسوں سے مجھے فرق پڑ جائے گا تو یہ ان کی غلط فہمی ہے۔ لاہور میں تیزی سے کورونا وائرس کے کیسز بڑھ رہے ہیں، پی ڈی ایم کو لاہور جلسے کی اجازت نہیں دیں گے ، رکاوٹ بھی نہیں ڈالیں گے، منتظمین اور کرسیاں لگانے والوں کے خلاف مقدمہ درج ہوگا۔ وزیراعظم نے کہا کہ 2 ڈھائی ہفتے پہلے حکومت نے تمام جلسے منسوخ کیے، ایس او پیز پر عمل درآمدکے لیے کوششیں کررہے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ جب آپ خواب پورا کرنے جائیں تو پھر کشتیاں جلا کر جائیں کوئی پلان بی نہیں ہونا چاہیے، ایک مرتبہ جو فیصلہ کرلوں پھر پلان بی نہیں بناتا۔جرائم کے حوالے بات کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا ملک میں ریپ جرائم کی شرح سب سے زیادہ ہے، موبائل فون کے غلط استعمال سے معاشرے میں تباہی مچ گئی ہے۔بچے وہ چیزیں دیکھ رہے ہیں جس کا تصور نہیں کیا جا سکتا ہے۔ٹی وی وغیرہ پر ہالی ووڈ اور بالی ووڈ کی نقالی کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ترک ڈرامے اس لیے لائے ہیں کہ اس میں اسلامی تعلیمات ہیں ،آپ لوگوں پر پابندی نہیں لگا سکتے ان کو متبادل تفریح مہیا کر سکتے ہیں ۔ اب کوشش کریں گے کہ ایسی چیزیں بنائیں جو معاشرے کو اوپر لے کر جائیں جو معاشرہ اپنی اقدار اوپر لے جاتا ہے کہ وہ کامیاب رہتا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ مغلوں اور ترک خلافت کا دور دیکھ لیں جب خاندای نظام تباہ ہوتا ہے تو ریاست قائم نہیں رہتی۔وزیراعظم نے کہا کہ ہم جو کراچی پیکج لے کر آئے ہیں اس پر صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان، فاٹا، گلگت بلتستان پیچھے رہ گئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے گلگت بلتستان کو صوبائی حیثیت دے دی ہے اور انہیں مرکزی دھارے میں لے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا کے لیے فنڈز میں اضافہ کردیا ہے۔عمران خان نے کہا کہ بلوچستان کی تاریخ میں کبھی اتنا پیسہ خرچ نہیں ہوا جتنا ہم کر رہے ہیں تاکہ وہ بھی دیگر صوبوں کے مقابلے میں اوپر اٹھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے