


برسلز (انٹرنیشنل ڈیسک) برطانیہ اور یورپی یونین کے مابین بریگزٹ سے قبل جاری مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ خبررساں اداروں کے مطابق بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن اور یورپی کمیشن کی صدر اورزلا فان ڈیئر لائن کے مابین برسلز میں ہونے والے 3گھنٹے طویل مذاکرات کے بعد کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے اتوار تک کی ڈیڈ لائن پر اتفاق کر لیا گیا۔ ادھر جرمن چانسلر نے امید ظاہر کی ہے کہ معاہدہ طے پانے کا امکان ہے۔ جب کہ فرانس کے نائب وزیر برائے یورپی یونین کلیمنٹ بیونی نے کہا ہے کہ برطانیہ اور یورپی یونین کے مابین تجارتی معاہدہ ممکن ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس سلسلے میں یورپی یونین اپنے قوانین میں کوئی ترمیم نہیں کرے گی۔ بریگزٹ کے بعد یورپی یونین کے تجارتی قوانین کو حتمی شکل دینے کی ڈیڈ لائن 31 دسمبر ہے، تاہم 8ماہ کے طویل مذاکراتی عمل کے بعد بھی اس معاملے پر فریقین کے مابین کوئی سمجھوتا نہیں ہو سکا ہے۔ فریقین کے پاس 2020ء کے اختتام تک کسی معاہدے تک پہنچنے کی مہلت ہے اور دونوں تیزی سے گزرتے وقت اور اہم معاملات میں کسی نکتے پر متفق نہ ہونے پر پریشان ہیں۔ رواں ہفتے جرمن وزیر برائے یورپی امور میشیل روتھ نے برطانوی حکومت پر طنز کرتے ہوئے کہا تھا کہ لندن میں جاری سیاست کے تناظر میں کسی بھی معاہدے کی ضمانت ناگزیر ہے۔ یورپی یونین سے ہونے والے کسی بھی سمجھوتے کا انحصار پاسداری اور اعتماد پر ہوگا۔ یورپی بلاک اور برطانیہ کے مابین اب بھی کئی کلیدی معاملات پر شدید اختلافات برقرار ہیں اور سمجھوتے کی کوئی گنجایش دکھائی نہیں دے رہی۔
