ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

ایران میں حکومت مخالف صحافی کو پھانسی

پھانسیپانے والے ایرانی صحافی روح اللہ زم کی فائل فوٹو

تہران (انٹرنیشنل ڈیسک) ایران میں روح اللہ زم نامی حکومتی ناقد کو سزائے موت دے دی گئی۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے روح اللہ زم کو پھانسی دیے جانے کی شدید مذمت کی ہے۔ روح اللہ زم تہران حکومت کے شدید مخالف تھے اور ملائیشیا کے راستے فرار ہو کر فرانس میں پناہ لیے ہوئے تھے۔ یہ بات واضح نہیں کہ روح اللہ زم کو کیسے اور کن حالات میں گرفتار کیا گیا۔ اس سے قبل رپورٹرز وِدآؤٹ بارڈرز نے کہا تھا کہ زم کو دورۂ عراق کے دوران بغداد سے اغوا کیا گیا اور پھر انہیں ایران منتقل کر دیا گیا تھا۔ روح اللہ زم پر الزام تھا کہ انہوں نے حکومت مخالف مظاہروں کو ہوا دی تھی۔ ایرانی سرکاری ٹی وی چینل کے مطابق انقلاب مخالف روح اللہ زم کو ہفتے کے روز پھانسی دے دی گئی۔ روح اللہ زم کو گزشتہ برس ایران کے پاسداران انقلاب نے گرفتار کیا تھا۔ ان پر یہ بھی الزام تھا کہ وہ فرانسیسی خفیہ ادارے کی ہدایات پر کام کر رہے تھے۔ ان پر ایرانی قانون کے تحت سب سے سنگین جرم یعنی زمین پر فساد پھیلانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ ایرانی تعزیرات کے تحت یہ سب سے سنگین جرم ہے۔ رپورٹرز وِدآؤٹ بارڈرز نے روح اللہ زم کو سزائے موت دیے جانے پر شدید غم وغصے کا اظہار کیا ہے۔ تنظیم کے مطابق روح اللہ زم کی پھانسی سے متعلق وہ 23 اکتوبر کو اقوام متحدہ کی کمشنر برائے انسانی حقوق اور ایران میں انسانی حقوق سے متعلق خصوصی عالمی نمایندے جاوید رحمان کو مطلع کر چکی تھی۔ رپورٹرز وِدآؤٹ بارڈرز نے ایک ٹوئٹ میں اس پھانسی کو ایرانی انصاف کا ایک نیا جرم قرار دیا ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں