


نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت میں مودی سرکار کے نئے زرعی قوانین کے خلاف سرپا احتجاج کسانوں اور پولیس نے مختلف علاقوں میں دست بہ گریباں ہو کر میدانِ جنگ سجا دیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق مظاہرین نے دارالحکومت نئی دہلی سے ملحق چند مزید سڑکیں بند کر دی ہیں۔ جب کہ دہلی آگرہ ایکسپریس وے کو بحال رکھنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ایکسپریس وے سے چند کسانوں کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ 2 مقامات پر کسانوں نے ٹول بوتھ پر قبضہ کر لیا، اور گاڑیوں اور ٹرکوں کو بغیر ٹیکس ادا کیے گزرنے دے رہے ہیں۔ ساتھ ہی کسانوں نے احتجاج میں تیزی لاتے ہوئے دہلی جے پور روڈ بند کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ بھارتیہ کسان یونین کے رہنما بلبیر ایس راجے وال نے کہا ہے کہ کسان دہلی جے پور ہائی وے کو بند کر کے ٹول فری کردیں گے۔ کسان رہنما کا یہ بھی کہنا تھا کہ ڈپٹی کلکٹروں کے دفتروں اور بی جے پی رہنماؤں کے گھروں کے باہر بھی مظاہرے کیے جائیں گے۔ ملک گیر احتجاج کی اپیل پر مختلف شہروں سے کسانوں کی آمد کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ادھر بھارت میں کسانوں کا یہ احتجاج یورپ بھی پہنچ گیا ہے۔ بھارتی کسان اور سکھ کمیونٹی ملک کے اندر اور باہر سراپا احتجاج ہے، اور اس ضمن میں پیرس میں بھی سکھ کمیونٹی کی جانب سے احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ کورونا وائرس کی وبا، سماجی فاصلے اور خراب موسم کے باوجود سکھ کمیونٹی کی ایک بہت بڑی تعداد احتجاجی ریلی میں موجود تھی۔ ریلی میں بچے خواتین کی بھی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ ریلی نے ایفل ٹاور سے بھارتی سفارت خانے تک احتجاجی مارچ کیا۔
