

برلن (انٹرنیشنل ڈیسک) جرمنی کے دارالحکومت برلن میں ہفتے کی صبح فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، جس میں 4 افراد زخمی ہو گئے، تاہم حکام کی جانب سے واقعے کی مکمل تفصیلات فراہم نہیں کی جا رہیں۔ خبر رساں اداروں کے مطابق پولیس کی خاتون ترجمان نے بتایا کہ چاروں زخمیوں کو اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ ترجمان کے مطابق کورٹس برگ کے علاقے میں پیش آنے والا یہ واقعہ باہمی جھگڑے کا نتیجہ ہے اور اس کے پیچھے سیاسی محرکات کو کوئی ثبوت نہیں ملا۔ اس سے قبل برلن میں فائر بریگیڈز کی سروس نے ٹوئٹر پر جاری بیان میں بتایا کہ واقعے میں 3 افراد شدید زخمی ہوئے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ پولیس نے دہشت گردی کو خارج از امکان قرار دیا تاہم اس نوعیت کے کسی بھی حملے کی صورت میں دہشت گردی کے امکانات کا شبہ موجود رہتا ہے۔ بالخصوص جب گزشتہ برسوں کے دوران کئی یورپی ممالک میں سلسلہ وار حملوں کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔ اس حوالے سے آخری واقعہ اکتوبر کے آخر میں پیش آیا تھا جب ایک تیونسی نوجوان نے ساحلی شہر نیس کے ایک چرچ میں کئی لوگوں پر حملہ کر دیا۔ 21 سالہ تونسی حملہ آور ابراہیم عویساوی کی اس کارروائی میں چاقو کے وار سے ایک مرد اور دو خواتین ہلاک ہو گئے تھے۔
