English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کسان احتجاج میں شدت نئے قافلے دہلی پہنچنا شروع

بھارت: پنجاب اور دیگر ریاستوں سے کسانوں کے نئے قافلے دہلی پہنچ رہے ہیں

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) مودی سرکار کے زرعی اصلاحات قانون کے خلاف کسان تنظیموں کی تحریک اکتیسویں روز بھی جاری رہی اور دارالحکومت کی سرحد پر دھرنا ومظاہرہ کرنے والے کسانوں کو قوت فراہم کرنے کے لیے دیگر ریاستوں سے مزید کسانوں نے دہلی پہنچنا شروع کردیا۔ تحریک کو ایک ماہ ہونے پر بھارتی کسان جدوجہد رابطہ کمیٹی نے سبھی اکائیوں سے ’’امبانی، اڈانی اور بی جے پی کا بائیکاٹ‘‘ کے عنوان سے تحریک کی اپیل کی ہے۔ کسان تنظیموں کا کہنا ہے کہ مودی سرکار تین زرعی قانون اور بجلی بل 2020کو منسوخ کرنے کے مطالبے کو حل نہیں کرنا چاہتی۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ دھرنے کے چاروں مقامات کی طاقت بڑھ رہی ہے اور کسان کئی ماہ کی تیاری کرکے آئے ہیں۔ آس پڑوس کے علاقوں سے اور دور دراز ریاستوں کے کسانوں کی شرکت بڑھ رہی ہے۔ ہفتے کے روز ایک ہزار کسانوں کا جتھا مہاراشٹر سے شاہ جہاں پور پہنچا، جب کہ ایک ہزار سے زائد اتراکھنڈ سے غازی پور کی سمت چل رہے ہیں۔ 200 سے زائد اضلاع میں باقاعدہ احتجاج اور مستقل دھرنے جاری ہیں۔ کسان تنظیموں کی جانب سے قومی دارالحکومت کی سرحدوں پر مسلسل دھرنا اور مظاہرہ کیا جارہا ہے۔ اس دوران سرحدوں پر سیکورٹی انتظام کو سخت کیا گیا ہے۔ کسان تنظیموں کے نمایندے دارالحکومت میں آ جارہے ہیں۔ نئے کسان پنجاب، ہریانہ، اتراکھنڈ اور کئی دیگر ریاستوں سے آرہے ہیں۔ دہلی اترپردیش سرحد پر تحریک کے شرکا مشتعل ہوگئے اور انہوں نے راستوں کو بند کردیا۔ بھارتیہ کسان یونین کے صدر راکیش ٹکیت نے کہا ہے کہ حکومت اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے اور ایسے میں کسانوں کا صبرجواب دے رہا ہے۔ بی جے پی کی ریاستی حکومتیں تحریک کو دبانے کے لیے باہر سے آنے والے کسانوں کو مختلف مقامات پر روک رہی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے