اسلام آباد( نمائندہ جسارت+خبرایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان رواں برس ترقی کرے گا، اچھا وقت آرہا ہے،2سال تجربہ کیا ، اب ہرچیلنجز سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں ۔اسلام آباد میں گاڑیاں متعارف کرانے کی تقریب سے خطاب اور نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ تیاری نہ ہونے سے متعلق میرے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا، کوئی بے وقوف ہی ہوگا جسے پتا نہ ملکی مسائل کیا ہیں، میں نے کبھی یہ بہانہ نہیں کیا کہ میری تیاری نہیں تھی،حکومت میں آنے سے پہلے بریفنگ نہ ملنے کی بات کی تھی جس کا غلط مطلب لیا گیا، گلگت میں حکومت کو آئے 2 ماہ ہوگئے، اب تک انہیں بریفنگ دی جارہی ہے، میری زندگی کے مشکل 2 سال گزرے، 5 سال بعد لوگ میری کارکردگی سے متعلق فیصلہ کریں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ یورپی یونین لیب نے ثابت کیا ہے کہ میرے اور فوج کے خلاف بہت بڑی سازش ہورہی ہے،پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ اس سازش کا حصہ ہے ، میرا کام ہے اپنی فوج کی حفاظت کرنا، اپوزیشن ثبوت دے کہ کس طرح فوج مجھے بیک کررہی ہے ، فوج صرف کووِڈ ، سیلاب اور ٹڈی دل میں سپورٹ کررہی ہے، فوج جانتی ہے عمران خان کرپشن نہیں کررہا بلکہ پاکستان کے لیے کام کررہا ہے۔عمران خان نے کہا کہ اپوزیشن پر حیرت ہورہی ہے کہ یہ چاہتی کیا ہے کہ فوج کیا کرے، ایک طرف مجھے کٹھ پتلی اور دوسری طرف فاشسٹ کہتے ہیں،یہ جو مرضی کرلیں، این آر او نہیں دوں گا،اگر نیب سے انڈر اسٹینڈنگ ہوتی تو 2 سال انتظار نہ کرتا، 6 ماہ میں سب کو جیل میں ڈال دیتا۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت آئی تو کہا گیا حکومت ایک ماہ میں گئی، 2ماہ میں گئی، کورونا آیا تو اپوزیشن نے خوشیاں منائیں، اپوزیشن واویلا کرتی رہی کہ حکومت آج گئی کل گئی، شہباز شریف لندن بھاگے بھاگے آئے کہ حکومت گئی، شہباز شریف لندن سے آکر کمپیوٹر کے سامنے بیٹھ گئے، کورونا آیا تو شاہد خاقان نے کہاکہ شہباز شریف سے پوچھیں انہوں نے ڈینگی کنٹرول کیا۔انہوں نے کہا کہ پی پی اور ن لیگ کے ساتھ مل کر حکومت بناتا تو احتساب نہیں ہوسکتا تھا، حکومت میں آکر ملک میں لوٹنے کا سلسلہ احتساب کی صورت میں ہی رک سکتا ہے، ق لیگ ، ایم کیو ایم اور دیگر اتحادیوں سے تعلقات اچھے ہیں، میری لڑائی دہشت گرد بانی متحدہ کے خلاف تھی، ایم کیو ایم کے نظریات ہم سے ملتے جلتے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ وزیراعظم اور وزیر کرپشن کریں تو ملک تباہ ہوجاتے ہیں، لیڈر شپ کرپٹ ہوتی ہے تو ملک تباہ ہوجاتے ہیں، شوگر مافیا میں سب سے پہلے شریف خاندان آیا، نواز شریف، زرداری اوران کے وزیروں نے شوگر ملز بنالیں، شوگر کاغذ پر برآمد ہوتی تھی، میرے کسی بھی وزیر پر کرپشن کا الزام لگے گا تو اس پر ایکشن لوں گا۔ وزیراعظم کے بقول پاکستان کے حل تکلیف دہ ہیں، گھر پر قرض اس لیے چڑھتا ہے کہ آمدنی کم اور اخراجات زیادہ ہوتے ہیں، خرچے کم کرتے ہیں تو گھر میں تکلیف ہوتی ہے۔ انہوںنے بتایاکہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تاریخی تھا، 2سال میں 20 ارب ڈالر قرض واپس کیا ہے، 17 سال بعد کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 5 ماہ سے سرپلس ہے، ترسیلات زر اور ایکسپورٹ ہماری بڑھی ہے، ہمارا روپیہ گرنے سے بچ گیا ہے، ہم مارکیٹ میں روپے کو روکنے کے لیے ڈالر نہیں پھینک رہے۔عمران خان نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنا پاکستان کے نظریے پر سمجھوتا ہے،یوٹرن تب برا ہوتا ہے جب نظریے پر سمجھوتا ہو اور اپنی منزل پانے کے لیے کہیں نہ کہیں سمجھوتا کرنا پڑتا ہے تاہم این آر او پر کبھی سمجھوتا نہیں کروں گا۔ قبل ازیں وزیراعظم نے سال 2021ء کے 2 اہداف کا اعلان کیا جن میں صحت کی مفت سہولیات اور کوئی بھوکا نہ سوئے پروگرام شامل ہے۔ انہوںنے کہا کہ میرے 2021ء کے 2 اہداف ہیں جن میں ایک تو ‘‘یونیورسل ہیلتھ کوریج’’ ہے جو پنجاب، گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے لیے ہوگا، ہر گھرانے کے پاس ہیلتھ انشورنس ہوگی، شہری کسی بھی اسپتال میں جاکر ہیلتھ کارڈ دکھاکر اپنا علاج کراسکیں گے، یہ بہت بڑا چیلنج ہے اور اس طرح کا پروگرام امیر ممالک میں بھی نہیں ہوتا،امید ہے کہ دیگر صوبے بھی یہ منصوبہ لاگو کریں گے۔عمران خان نے بتایا کہ دوسرا پروگرام ہے کہ ‘‘کوئی پاکستان میں بھوکا نہ سوئے’’، اس میں پوری قوم اور سارا ملک شامل ہوگا، آئی ٹی کا استعمال کرکے ان علاقوں کی نشاندہی کریں گے جہاں بھوک زیادہ ہے، فلاحی اداروں کے ساتھ مل کر احساس پروگرام کے ذریعے یہ نیا پروگرام لانچ کروں گا تاکہ سال کے آخر تک پاکستان وہ ملک بن جائے کہ کوئی شہری بھوکا نہ سوئے۔انہوں نے بتایاکہ سی پیک کے اگلے حصے میں زراعت بھی شامل ہے، برآمدات میں اضافے کے لیے چین کی مدد حاصل کریں گے، ملکی زرعی پیداوار میں اضافے کی کوشش کریں گے، ہماری کوشش ہے اقتصادی زونز میں چینی سرمایہ کاری آئے، چین دنیا میں سب سے تیزی سے آگے بڑھنے والا ملک ہے، صنعتی طور پر مضبوط ہونے کے لیے اس سے شراکت داری ضروری ہے، ہماری کوشش ہے عوام کو غربت سے نکالیں۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستان نے انڈسٹریلائز ہونا اور ترقی کرنی ہے تو چین بہترین اتحادی ہے، چین نے کم مدت میں 70 کروڑ افراد کو غربت سے نکالا، اس سے ہم بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں، اس کا ڈیولپمنٹ ماڈل ہمارے لیے سب سے زیادہ قابل عمل ہے۔

