

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت میں مودی سرکار کے متنازع زرعی قوانین کے خلاف جاری احتجاج کے دوران ایک 75 سالہ سکھ کسان نے دارالحکومت نئی دہلی اور ریاست اتر پردیش کے درمیان غازی پور سرحد پر خود کشی کر لی۔ باپو کے نام سے مشہور خود کشی کرنے والے کسان کا نام کشمیر سنگھ تھا اور وہ اتر پردیش کے ضلع رام پور کا رہایشی تھا۔ رپورٹس کے مطابق ہفتے کی صبح اس کی لاش ایک ٹوائلٹ میں رسی سے لٹکی ہوئی ملی، جس کے قریب سے ایک پیغام بھی لکھا ملا، جس میں اس نے زرعی قوانین کے خلاف اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے لکھا تھا کہ وہ حکومت اور کسان تنظیموں کے درمیان ہونے والی بات چیت کی ناکامی سے بہت مایوس ہے۔ اس نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ متنازع قوانین واپس لے۔ اتر پردیش کی ایک کسان تنظیم بھارتیہ کسان یونین کے مطابق کشمیر سنگھ نے اپنے پیغام میں حکومت کو اپنی موت کا ذمے دار ٹھیرایا ہے اور کہا ہے کہ اس کے اوپر اس کے اہل خانہ کا یا کسی کا دباؤ نہیں تھا۔ اس نوٹ میں مبینہ طور پر یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ وہ کب تک اس سردی میں یہاں بیٹھے رہیں گے۔ یہ حکومت ان کی بات نہیں سن رہی۔ لہٰذا وہ اپنی جان دے رہا ہے، تاکہ مسئلے کا کوئی حل نکلے۔ دوسری جانب زرعی قوانین واپس لینے اور کم از کم امدادی قیمت کو قانونی تصدیق دینے کے مطالبے پر 4 جنوری کو حکومت کے ساتھ اجلاس میں معاہدہ نہ ہونے پر کسان تنظیموں نے پورے ملک میں تحریک تیز کرنے کی دھمکی دی ہے۔ کسان رہنما بی ایس راجے وال،درشن پال،گرنام سنگھ چڈھونی،حنان مولا،جگجیت سنگھ ڈلے والا، شیوکمار شرما ککا جی اور یوگیندر یادو نے ہفتے کے روز ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ 4 جنوری کو حکومت کے ساتھ آٹھویں دور کی بات چیت ہے اور اس کے ناکام ہونے پر 26 جنوری کو یوم جمہوریہ پر دہلی میں ٹریکٹر پریڈ نکالی جائے گی۔
