English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

چین کے آبی منصوبے سے بھارت اور بنگلہ دیش پریشان

القمر

 

بیجنگ (انٹرنیشنل ڈیسک) چین کے ایک نئے آبی منصوبے ’’سپر ڈیم‘‘ کی تعمیر کے اعلان نے بھارت اور بنگلادیش کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ خبررساں اداروں کے مطابق یہ ڈیم دریائے یارلنگ سانگپو، جسے بھارت میں برہم پترا کہتے ہیں، پر بنایا جائے گا۔ چین کی کمپنی پاور کنسٹرکشن کارپوریشن آف چائنا نے اس ڈیم کی تعمیر کا اعلان گزشتہ برس کیا تھا۔ اس ڈیم کو تبت کے علاقے میں تعمیر کیا جائے گا۔ یہ علاقہ بھارت کے شمال مشرقی صوبے ارونچل پردیش کے ساتھ واقع ہے۔ چین کا دعویٰ ہے کہ یہ اس کا علاقہ ہے، جسے وہ جنوبی تبت کا نام دیتا ہے۔ اب تک ڈیم کی تعمیر شروع نہیں ہوئی، تاہم ماہرین کی نظر میں یہ ڈیم مستقبل میں بھارت اور چین میں تنازعات کا ایک نیا سلسلہ شروع کر دے گا، جب کہ بنگلادیش کو بھی اس ڈیم کی تعمیر پر تشویش ہے، جو تازہ پانی کے لیے اس دریا پر انحصار کرتا ہے۔ بھارتی ماہرین کہتے ہیں کہ اس ڈیم کی تعمیر سے دو نقصان دہ صورتیں پیدا ہو سکتی ہیں، یعنی سیلاب اور پانی کی قلت۔ دوسری طرف سلامتی امور کے ماہرین کہتے ہیں کہ عسکری قوت کی خطے میں بھاری موجودگی میں اس ڈیم کی تعمیر چین کو بھارت پر برتری دلا دے گی۔ دونوں ہمسایہ ممالک پہلے ہی کوہِ ہمالیہ کی متنازع سرحد پر اختلافات اور تناؤ کا شکار ہیں۔ یہ ڈیم 60 گیگا بائٹس کی بڑی مقدار میں بجلی پیدا کرے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ڈیم دریائے یینگزی پر دنیا کے عظیم ترین تھری گورگز ڈیم سے تین گنا زیادہ بڑا ہوگا۔ نئی دہلی میں قائم منوہر پری کار انسٹیٹیوٹ آف ڈیفنس اسٹڈیز اینڈ اینیلسز سے منسلک ماہر جگ ناتھ پانڈا کہتے ہیں کہ بھارت کو سب سے بڑی تشویش یہ ہے کہ چین یکطرفہ طور پر اس ڈیم کی تعمیر کرے گا اور یوں وہ کئی ممالک میں گزرنے والے اس دریا کے بہاؤ کو یکطرفہ طور پر کنٹرول کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے