English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

برطانوی عدالت کا بانی وکی لیکس کو امریکا کے سپرد نہ کرنے کا حکم

القمر

 

لندن (انٹرنیشنل ڈیسک) برطانوی عدالت نے حکم دیا ہے کہ وکی لیکس کے بانی جولیان اسانج کو امریکا کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔ خبر رساں اداروں کے مطابق خاتون جج وینیسا برائسٹر نے جولیان اسانج کو امریکی تحویل میں دینے کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ اس وقت اسانج کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں اور امریکا میں حراست کے دوران ان کے خودکشی کرنے کا امکان موجود ہے۔ اسانج اس وقت ضمانتی ضوابط کی خلاف ورزی کرنے پر ایک برطانوی جیل میں ہیں۔ امریکی حکام کے پاس عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کے لیے 14 دن کی مہلت ہے جب کہ اسانج کے وکلا کل ضمانت کی اپیل دائر کریں گے۔ وکلا نے عدالت کو یقین دلایا ہے کہ وہ فرار نہیں ہوں گے۔ واضح رہے کہ 49 سالہ آسٹریلوی شہری جولیان اسانج کو 2010ء اور 2011ء کے دوران ہزاروں امریکی خفیہ دستاویزات منظر عام پر لانے کے الزامات کا سامنا ہے۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ ان خفیہ دستاویزات کو عام کر کے اسانج نے امریکی قانون کے ساتھ کئی افراد کی زندگیوں کو خطرات میں ڈال دیا تھا۔ دوسری جانب اسانج کے وکلا کا کہنا ہے کہ امریکی تحویل میں دینے کے بعد الزام ثابت ہونے کی صورت میں اسانج کو امریکی عدالت 175 برس تک کی سزا سنا سکتی ہے۔ اُدھر جانب امریکی حکومت کا موقف ہے کہ عدالت کی جانب سے دی جانے والی سزا کا دورانیہ محض 4 سے 6 برس تک ہو سکتا ہے۔ برطانیہ کی ڈسٹرکٹ جج وینیسا برائسٹر نے اپنے فیصلے میں تحریر کیا کہ اسانج کو امریکی تحویل میں دینے کی درخواست بظاہر اہم ہے لیکن امریکی جیلوں کے انتظامات اتنے مناسب نہیں کہ وہ اسانج کو اپنی جان لینے سے روک سکیں۔ اسانج اس وقت برطانیہ کی سخت سیکورٹی والی جیل بیلمارش میں قید تنہائی میں ہیں۔ جج نے صورت حال کا اپنے فیصلے میں اندراج کرتے ہوئے اس بات سے اتفاق کیا کہ امریکی جیلوں میں اسانج کے خودکشی کرنے کے زیادہ امکانات ہیں اور اس بنیاد پر اسانج کی امریکی حوالگی ایک جابرانہ فیصلہ ہو گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے