مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) لبنان اور اسرائیل کے درمیان سرحدی کشیدگی کی اطلاعات کے بعد صہیونی حکومت نے لبنان کے ساتھ سرحدی باڑ کے قریب نقل و حرکت روک دی ہے۔ عرب ذرائع ابلاغ کے مطابق لبنان کی سرحد پر قائم ایک یہودی کالونی کو فوجی زون قرار دیا گیا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک میں گزشتہ برس ستمبر سے کشیدگی چلی آ رہی ہے۔ اسرائیلی فوج کی شمالی کمانڈ کے ایک جنرل نے امکان ظاہر کیا ہے کہ مستقبل قریب میں لبنانی حزب اللہ اسرائیل پر حملہ کرسکتی ہے۔ اخبار اسرائیل ٹوڈے نے اس جنرل کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ شمالی سرحد پرکئی روز تک لڑائی جاری رہ سکتی ہے۔ حزب اللہ نے دھمکی دی تھی کہ اگر اسرائیلی فوج کی طرف سے کوئی کارروائی کی جاتی ہے تو حزب اللہ اس کا غیر مسبوق اور پوری شدت کے ساتھ جواب دے گی۔ نومبر میں اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر گیلاد اردان نے سلامتی کونسل کو ایک باضابطہ خط پیش کیا تھا، جس میں جنوبی لبنان میں حزب اللہ کی سرگرمیوں کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ قابض اسرائیلی فوج کے دوسودسویں ڈویژن کے کمانڈر میجر جنرل رومان گوفمین نے کہا تھا کہ اسرائیلی فوج کو سب سے بڑا خطرہ شام کی وادی جولان سے نہیں، بلکہ حزب اللہ سے ہے۔ فریقین کے درمیان ماضی میں کئی بڑی جنگیں اور سرحدوں پر جھڑپیں ہوچکی ہیں، اور دونوں ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی بھی کرتے رہتے ہیں۔
