English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بھارت کا مکروہ چہرہ پھر بے نقاب ، خواتین پر تشدد میں اضافہ

القمر

 

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) دنیا بھر میں سیکولر ریاست کی دعوے دار بھارتی حکومت کا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے آگیا۔ بھارت میں انتہاپسند درندوں کے کھلے عام پھرنے پر مودی سرکار کی خاموشی، بلکہ پشت پناہی کوئی نئی بات نہیں ہے، تاہم اب حکومتی اداروں نے بھی ملک میں خواتین کے غیر محفوظ ہونے کا اعتراف کرلیا ہے۔ بھارتی قومی خواتین کمیشن نے اپنے رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ 2020ء میں خواتین کے خلاف جرائم کی 23ہزار سے زائد شکایات موصول ہوئیں، جو 6برس کے دوران سب سے بڑی تعداد ہے۔ خواتین کمیشن کی رپورٹ سے پتا چلتا ہے کہ خواتین اپنے گھروں میں بھی محفوظ نہیں ہیں۔ کورونا وائرس کے سبب لاک ڈاون کے دوران خواتین کے مصائب میں مزید اضافہ ہوا اور انہیں گھریلو تشدد کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ گزشتہ برس خواتین کے خلاف جرائم کی سب سے زیادہ 11 ہزار872 شکایتیں اترپردیش سے موصول ہوئیں۔ اس کے بعد دارالحکومت دہلی سے 2ہزار 635 شکایتیں، ہریانہ سے 1266اور مہاراشٹر سے1188شکایتیں موصول ہوئیں۔ خواتین پر گھریلو تشدد کے یہ اعداد و شمار مجموعی طور پر ہونے خواتین سے زیادتی کے واقعات کا ایک چوتھائی ہیں۔ خواتین کمیشن کی نگراں ریکھا شرما کا کہنا تھا گزشتہ برس کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاون کے دوران میاں بیوی کے لیے گھر ہی دفتر بن گیا۔ اس دوران ملازمت پیشہ خواتین کو گھر میں بیٹھ کر دفتری کام کرنے کے ساتھ ساتھ گھریلوکام بھی کرنے پڑے۔ اس لیے 6برس میں خواتین کے خلاف تشدد کی سب سے زیادہ شکایتیں 2020ء میں موصول ہوئیں اور جولائی میں سب سے 660شکایتیں سامنے آئیں۔ واضح رہے کہ اس سے قبل سرکاری ادارے نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو (این سی آر بی) نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ بھارت میں ہر 15 منٹ میں ایک خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ این سی بی آر نے 2016ء اور 2017 کے حوالے سے بتایا تھا کہ ملک بھر میں خواتین کے خلاف تشدد، زیادتی، تیزاب سے حملے، ہراساں کرنے سمیت دیگر صنفی امتیاز کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوگیا ہے۔ 2017 ء میں ملک بھر میں خواتین کے خلاف جرائم و تشدد کے 3 لاکھ 60 ہزار سے زائد کیسز رجسٹرڈ ہوئے جن میں سے زیادہ تر زیادتی کے تھے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ قومی کمیشن نے واقعات میں اضافے کے پس منظر میں کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن کو مورد الزام ٹھیرایا ہے،جب کہ اس سے پہلے کے اعدادوشمار ثابت کرتے ہیں کہ لاک ڈاؤن سے پہلے بھی بھارت میں خواتین کی حالت کتنی دگرگوں رہی ہے۔ قومی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں تشدد کے مجموعی واقعات کے صرف ایک تہائی کو بیان کیا ہے،جو گھریلو تشدد سے متعلق ہے۔ باقی کے دو تہائی کو ذکر نہ کرنا مودی سرکار کے مکروہ چھپانے کے مترادف ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے