کابل/دوحا (خبر ایجنسیاں) افغانستان میں امریکی فوجیوں نے دارالحکومت کابل کے جنوب میں واقع صوبے لوگر میں اپنے بڑے فوجی اڈے کوخالی کر دیا‘ دوسری جانب افغانستان کے خفیہ ادارے کے سربراہ احمد ضیا سراج نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ ہمیں یقین ہے کہ طالبان مئی کے مہینے میں افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا تک مذاکرات کو طویل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں ، طالبان امن نہیں چاہتے۔ ایران ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق صوبے لوگر کے مقامی حکام نے اعلان کیا ہے کہ امریکی فوجیوں نے فاب شنگ نامی اپنے بڑے اڈے کوخالی کر دیا ہے اور اب یہ فوجی اڈہ، افغان فوج کے کنٹرول میں آگیا ہے‘ اس فوجی اڈے میں امریکا کے تقریبا 600خصوصی فوجی موجود تھیدوسری جانب افغان مذاکرات کار طالبان کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے دوحا پہنچ گئے جبکہ کابل نے طالبان پر یہ الزام عائد کیا ہے کہ وہ مذاکرات روک رہے ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اب تک دونوں فریقین کے درمیان کئی مہینوں سے جاری بات چیت کا فائدہ بہت کم سامنے آیا ۔افغانستان کے خفیہ ادارے کے سربراہ احمد ضیا سراج نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ ہمیں یقین ہے کہ طالبان مئی کے مہینے میں افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا تک مذاکرات کو طویل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ طالبان کی جانب سے امن کا کوئی ارادہ نظر نہیں آتا۔علاوہ ازیںامریکا کے خصوصی سفیر برائے افغانستان زلمے خلیل زاد نے ٹرمپ کی مدت صدارت سے قبل مذاکرات میں مزید تیزی لانے کا مطالبہ کیا ۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دونوں فریقین کو یہ ظاہر کرنا ہوگا کہ وہ جلد از جلد سیاسی سمجھوتے اور کسی معاہدے پر بات چیت کرکے افغان عوام کے مفاد میں کام کررہے ہیں۔
