English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

اسرائیل کرونا وبا کوفلسطینیوں کے خلاف بطور ہتھیارکیسے استعمال کر رہا ہے؟ شفقنا بین الاقوامی

القمر

اسرائیل اس وقت فی کس ویکسین دینے میں فخریہ طور پر دنیا میں سب اگے ہے۔ تین ہفتے قبل شروع ہونے والی ویکسینیشن مہم میں 2 ملین اسرائیلیوں کو کرونا کی ویکسین دی جا چکی ہے اور 9 ملین کی آبادی کے لیے 14 ملین ویکسین کی خوراکیں خرید رکھی ہیں۔ کرونا کی نئی قسم کی سٹرین اور لاک ڈاون کی میعاد میں اضافے کے بعد اسرائیلی دنیا کے لیے اس معاملے میں مثالی نمونہ بن گیا ہے ۔ اور یہ حیرانگی کی بات نہیں ہے کہ غیر قانونی طور پر قابض افراد اور مقامات کے لیے بھی کمپنیوں کی پالیسی میں شامل نہیں ہیں اور ان کو بھی ویکسین ویسے ہی فراہم کی گئی ہے۔

پانچ ملین آبادی پر مشتمل غزہ، مغربی کنارے اور مقبوضہ فلسطین کے دیگر علاقوں کے لیے کرونا وبا کی ویکسین تقسیم نہ کرنے کے اسرائیلی فیصلے پر کڑی تنقید کی جارہی ہے۔ جینیوا کنونس کی شق نمبر 56 کے تحت اسرائیل اس بات کا پابند ہے کہ جن علاقوں پر اس نے قبضہ کر رکھا ہے وہاں کی عوام کو تحفظ اور صحت کی سہولیات فراہم کرے اور پھر اس عالمی وبا کی صورت میں یہ بات تو انتہائی لازم قرار پاتی ہے۔ یہ امتیاز اسرائیلی کی نسلی امتیازی فطرت کو دو طرح سے ظاہر کرتا ہے اول یہ انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی ہے اور دوسرا صحت کے بحران پر قابو پانے کے لیے یہ بدترین غیر ذمہ داری ہے۔

فلسطینی اتھارتی  نے اپنی 20 فیصد آبادی کے لیے بہ مشکل ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی مدد سے کرونا کی ویکسین کے لیے کچھ مالی مدد حاصل کی ہے ۔ اسی طرح آسٹرازینیکا اور روس کی سپوتنگ وی ویکسین کی دو ملین خوراکوں کے لیے بھی فلسطینی اتھارٹی بات چیت کے مراحل میں ہے۔ تاہم ان دنوں ویکسینوں میں سے شاید ہی اگلے کچھ ماہ تک فلسطین کو دستیاب ہوسکے۔  فلسطینی پارلیمنٹ کے ممبر اور میڈیکل ریلیف سوسائٹی کے ممبر فزیشن ڈاکٹر مصطفٰی برغوٹی کا کہنا ہے کہ اسرائیل درحقیقت بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے کیونکہ یہ بطور غاصب قوت یہ اپنی ذمہ داری سے بھاگ رہا ہے۔

وائرس بطور ہتھیار

جس طرح اسرائیل اپنی قانونی ذمہ داری سے فرار حاصل کررہا ہے اور فلسطینیوں کو اس ویکسین سے دور رکھا ہے اس سے لگتا ہے کہ اسرائیل فلسطینیوں کے خلاف کرونا وائرس کو بطور ہتھیار استعمال کررہا ہے۔  حتٰی کہ اسرائیل نے غزہ اور مغربی کنارے میں کام کرنے والے فلسطینی میڈیکل سٹاف کو ویکسین کی فراہمی سے انکار کر دیا ہے جبکہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے ان کے لیے خصوصی درخواست بھی کی تھی۔ ایک رپورٹ کے مطابق فلسطینی اتھارٹی نے صحت کے کارکنان کے لی اسرائیل سے دس ہزار خوراکوں کی درخواست کی تھی۔ فلسطین اور اسرائیل کے مابین اولین رابطہ کار حسین الشیخ نے نے بھی تصدیق کی ہے کہ اسرائیل نے اس درخواست کو رد کر دیا ہے۔

اس وائرس کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے حوالے سے ایک اہم بات یہ بھی ہے فلسطینی قیدیون کو بھی جان بوجھ کر اس ویکسین سے محروم رکھا گیا ہے حالانکہ جیلوں میں وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اسرائیل کی داخلہ سیکورٹی کے سربراہ عامر اوہان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ان کو کئی مواقع  پر نوٹ کیا گیا ہے کہ وہ فلسطینیوں کو ویکسین کی فراہمی میں سنجیدہ نہیں ہیں۔ کرونا ویکسین کی فراہمی کا کیس اس وققت اسرائیلی ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے۔  فلسطینی آبادی کو ختم کرنے کی کوششوں اور بین الاقوامی تنظیموں کی مخالفت کر کے بالاخر اسرائیل اپنی آبادی کو ہی خطرے میں ڈالے گا۔ جیسا کہ مغربی کنارہ آبادیوں اور آبادکاروں سے بھرا ہوا ہے اس کی آبادی بھی بہت قریب اور جڑ کر رہتی ہے۔ جس سے وائرس سے شاید ہی کوئی محفوظ رہ سکے اور وائرس ہر گز فلسطینیوں اور اسرائیلیوں میں تمیز نہیں کرے گا۔

درحقیقت اسرائیل جو کچھ کر رہا ہے یہ اس کے اپنے شہریوں کے کے لیے نقصان دہ ہےکیونکہ اگر آپ 8 ملین آبادی کو تو ویکسین کی خوراک دے دیں اور 2۔5 ملین آبادی کو ایسے ہی چھوڑ دیں تو آپ کبھی بھی اجتماعی مدافعت حاصل نہیں کر سکتے اور خاص طو پر جب 130،000 افراد روزانہ اسرائیل میں کام پر جائیں اور اسرائیلی آبادی سے میل جول رکھیں۔ اسی طرح ایک اندازے کے مطابق قریبا ساڑھے سات لاکھ اسرائیلی مغربی کنارے میں غیر قانونی طور پر آباد ہیں  جو کہ 1۔3 ملین آبادی کے ساتھ مل جل کر رہے ہیں ۔ اس لیے یہ ایک مجرمانہ فعل ہے جو نہ صرف فلسطینیوں کے خلاف کیا جارہا ہے بلکہ اسرائیلیوں کی صحت کے ساتھ بھی کیا جارہا ہے۔  اس کا مطلب ہے کہ یہ تمام آبادی کبھی اجتماعی مدافعت تک نہیں پہنچ سکتی ۔ جبکہ اس عمل میں پریشانی کا سبب کرونا کی اقسام میں تغیر بھی ہے ۔ اس وقت تک یہ ویکسین کرونا کی موجودہ سٹرین کے خلاف مؤثر ثابت ہوچکی ہے تاہم موجودہ حالات سے کرونا کے مضبوط تغیراتی اقسام پیدا ہوں گی۔

کسی بھی علاقے میں مختلف ویکسینز، مختلف شیڈولز اور پسماندگی صحت کی تباہی کا پروانہ ہے جو کہ اپنی شدت میں بلا امتیاز ہوگا۔ فلسطینی عوام ایک مفلس اور اسرائیلی مخالف مقامی حکومت کا سامنا کر رہے ہیں اور صحت کا یہ بحران اب تک 1500 افراد کی جانیں لے چکا ہے  اور پھر اس پر مستزاد اسرائیلی کا غاصبانہ قبضہ ایک الگ تازیانہ ہے۔  یہ بات بہت اہم ہے کہ ویکسین کو منصفانہ طور پر بلا امتیاز اور بلا سرحد سب کو ملنا چاہیے  اگر ایسا نہ ہوا تو اس وبا سے کوئی بھی محفوظ نہیں رہ سکے گا۔

 

پیر، 18 جنوری 2021

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے