لاہور: 14 سال بعد آنے والی جنوبی افریقی کرکٹ ٹیم کو شکست کا ذائقہ چکھانے کے لیے پاکستانی کوچز نے سر جوڑ لیے۔
2007 میں کراچی ٹیسٹ میں ہونے والی ناکامی کا بدلہ لینے کے لیے مہمان ٹیم کو قابو کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے، 2 میچز پر مشتمل ٹیسٹ سیریز میں منگل سے نیشنل اسٹیڈیم پر شروع ہونے والے مقابلے کے لیے دونوں ٹیموں کی تیاریاں جاری ہیں،پاکستان ٹیم نے دوسرے دن بھی نیشنل اسٹیڈیم پر پریکٹس سیشن میں جاری ہے،سابق ٹیسٹ کپتان اور ہیڈ کوچ مصباح الحق کی زیر نگرانی دیگر تین سابق ٹیسٹ کپتانوں بولنگ کوچ وقار یونس، بیٹنگ کوچ یونس خان، پی سی بی کے ہائی پرفارمنس سینٹر کے کوچ محمد یوسف اور اسپن بولنگ اسپیشلسٹ محمد ثقلین نے حریف سائیڈ کے خلاف بہتر نتائج حاصل کرنے کے لیے لائحہ عمل مرتب کرنا شروع کر دیا ہے۔ دوسری طرف جنوبی افریقہ کرکٹ ٹیم کراچی جیمخانہ گراؤنڈ پر تیاریوں میں مصروف ہے۔
دریں اثنا دونوں ٹیموں کی تیاریوں کی موقع پرسکیورٹی کے انتظامات کی وجہ سے سڑکوں پر ٹریفک کی روانی بری طرح سے متاثر ہوئی ہے،اطراف کی سڑکیں کنٹینر سے بند کرکے ٹریفک کے لئے بند کردی گئی ہیں، مسلسل تین دن سے سڑکوں کی بندش کی وجہ سے شہری سخت پریشانی اور اذیت کا شکار ہیں، اہلیان کراچی کو مزید اگلے سات دن اس رسوائی کا سامنا رہے گا۔
جنوبی افریقا کے خلاف ٹیسٹ سیریز؛ کمنٹری پینل میں معروف کمنٹیٹرزشامل

لاہور: جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے منگل سے نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں شیڈول پہلے میچ سے کمنٹری پینل میں معروف کمنٹیٹرز شامل ہوں گے۔
سابق کپتان وسیم اکرم، رمیز راجہ اور بازید خان کے ساتھ مائیک ہیسمین اور ڈیرل کلینن سمیت نیوزی لینڈ کے سابق فاسٹ باؤلر سائمن ڈول بھی کمنٹری کرنے والوں میں شامل ہوں گے، وسیم اکرم صرف ٹیسٹ سیریز جبکہ سائمن ڈول صرف ٹی ٹونٹی سیریز میں کمنٹری کے فرائض انجام دیں گے۔ دونوں ٹیموں کے مابین تین ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچوں پر مشتمل سیریز قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلی جائے گی۔
غیرملکی کمنٹیٹر جنوبی افریقہ کے سابق بیٹسمین ڈیرل کلینن کا کہنا ہے کہ وہ ایک بار پھر پاکستان واپسی پر بہت خوش ہیں، دونوں ٹیمیں باصلاحیت ہیں، لہٰذا وہ ایک شاندار سیریز کے انعقاد کے منتظر ہیں۔نیوزی لینڈ کے سابق فاسٹ بولر سائمن ڈول کا کہناہے کہ وہ اعلیٰ معیار کے فاسٹ بولرز پر مشتمل دونوں ٹیموں کے درمیان سیریز کے آغاز کا اب مزید انتظار نہیں کرسکتے۔
معروف کمنٹیٹر مائیک ہیسمین کا کہنا ہے کہ سال 2003 میں پاکستان میں کھیلی گئی سیریز کے دوسرے ٹیسٹ میچ کے اختتام پر انہوں نے آن ائیر ایک جملہ کہا تھا کہ ان دونوں ٹیموں کو کوئی علیحدہ نہیں کرسکتا، آج اٹھارہ سال بعد ان دونوں ٹیموں کے درمیان جنگ کا دوبارہ آغاز ہونے جارہا ہے،اس تاریخی ٹور پر انہیں کانٹے دار مقابلے کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس سیریز کے میچز پر تبصرہ کرنے کے لیے بہت پرجوش ہیں۔
دوسری طرف سیریز کی براڈکاسٹ پروڈکشن سروسزمشترکہ طور پر ٹرانس گروپ ایف زیڈ ای، این ای پی گروپ اور بلٹز ایڈور ٹائزنگ کو فراہم کردی گئی ہیں۔اس کنسورشیم میں این ای پی گروپ ٹیکنکل پارٹنر ہے۔ این ای پی گزشتہ تیس سال سے دنیا کا ایک نامور پروڈکشن پارٹنر ہے۔ سیریز کی کوریج کُل 28 مختلف کیمروں سے کی جائے گی،جن میں ہاک آئی بال ٹریکنگ پر مشتمل ڈی آر ایس، آلٹر موشن، بگی کیمرہ اور ڈرون کیمرہ بھی شامل ہیں۔
پی سی بی نے پاکستان سے باہر نشریاتی حقوق کے معاہدے کرلیے

لاہور: پی سی بی نے پاکستان سے باہر نشریاتی حقوق کے معاہدے کرلیے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے پاکستان سے باہر نشریاتی حقوق کے معاہدے کرلیے جس کے تحت شمالی امریکا، کیریبیئن جزائر، برطانیہ اور نیوزی لینڈ میں کرکٹ کی نشریات دیکھی جا سکیں گی، زیرمعاہدہ نیٹ ورک 2023 تک پی ایس ایل اور پاکستان کے ہوم میچز دکھائیں گے۔
بورڈکے مطابق آسٹریلیا، جنوبی ایشیا (پاکستان کے علاوہ) اور مڈل ایسٹ میں ممکنہ نشریاتی اداروں کے ساتھ بات چیت جاری ہے، اس سلسلے میں مکمل تفصیلات مناسب وقت پر جاری کردی جائیں گی۔
منبع: ایکسپریس نیوز
