جنوبی افریقہ رواں۔ ہفتے 14 سال بعد پاکستان میں پہلا ٹیسٹ میچ کھیلے گا۔ یہ ایک ایسا میچ ہے جسے پاکستان میں کرکٹ کے احیا کے لیے ایک یادگار لمحہ قرار دیا جا رہا ہے۔ لاہور میں 2009 میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر دہشت گرد حملے کے بعد پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کے تعطل کے بعد جنوبی افریقن ٹیم کا یہ دورہ پاکستان کو اعتماد بخشے گا۔ اس سیریز کا پہلا میچ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں کھیلا جائے گا۔ سری لنکن ٹیم پر حملے کے بعد بین الاقوامی ٹیموں نے سیکورٹی خدشات کے پیش نظر پاکستان آنے سے انکار کر دیا تھا تاہم 2019 میں محدود اوورز کے کھیل کے لیے دوبارہ سر لنکن ٹیم نے ہی پاکستان کا پہلا دورہ کیا جس کے بعد اب جنوبی افریقن ٹیم ٹیسٹ فارمیٹ کے لیے پاکستان آ رہی ہے۔
شائقین کے لیے پرجوش لمحات
وینیو کے گرد سیکور ٹی کا سخت حصار قائم کیا گیا ہے جبکہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو نے اس دورے کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شائقین اور فینز کے لیے یہ لمحات بہت پرجوش ہیں۔ وسیم خان کا کہنا تھا کہ 14 سال بعد کسی بڑی بین الاقومی ٹیم کا دورہ ایک یادگار لمحہ ہے اور مجھ سمیت ہر آدمی اس سیریز کے انتظار میں ہے۔
انگلینڈ بھی 2005 کے بعد پاکستان کے ساتھ اکتوبر میں دو ٹی ٹونٹی میچ کھیلنے پر راضی ہو گیا ہے جس کے بعد نیوزی لینڈ اور ویسٹ انڈیز بھی پاکستان کے ساتھ ایک روزہ میچز کی سیریز پہ تیار ہو گئی ہیں۔ اگر ان ٹیموں کے دورے بخیر و عافیت ہوجاتے ہیں تو اگلے سال آسٹریلیا کی ٹیم بھی ٹیسٹ اور ایک روزہ میچز کی سیریز کے لیے 1998 کے بعد پہلے دورہ پاکستان کے لیے پر تول رہی ہے۔وسیم خان نے مزید کہا کہ پاکستان میں کرکٹ کی بحالی کی کوششیں رنگ لا رہی ہیں اور اگلا سال ہمارے لیے خاصا پرجوش ہے۔
نامعلوم حالات
ویسے تو جنوبی افریقہ نے پاکستان کے خلاف 26 ٹیسٹ میچوں میں سے 15 میں برتری حاصل کر رکھی ہے جبکہ چار میچوں میں اسے شکست کا سامنا رہا اور سات میچ بغیر کسی نتیجے کے اختتام پزیر ہوئے مگر اب بابر اعظم کی بطور ٹیسٹ کپتان جنوبی افریقہ کے لیے یہ ایک الگ چیلنج ہوگا۔ بابر اعظم جو 2007 میں جنوبی افریقن ٹور کے وقت گیند پکڑانے والے کھلاڑی تھے ان کے لیے گزشتہ ماہ نیوزی لینڈ کے پاتھوں ٹیسٹ سیریزمیں 0-2 کی شکست کے بعد پاکستان کو کامیابی سے ہمکنار کرنا ایک بڑا خواب ہو گا۔
انگوٹھے کے فریکچر کے باعث بابر اعظم نیوزی لینڈکے خلاف سیریز میں حصہ نہیں لے سکے تھے وہ جنوبی افریقہ کے خلاف 20 کھلاڑیوں کو لیڈ کریں گے جن میں سے سات کھلاڑی ایسے ہیں جو پہلی مرتبہ ٹیسٹ میچ میں حصہ لے رہے ہیں۔ دو سپنر نعمان علی اور ساجد خان پہلی ٹیسٹ کیپ حاصل کریں گے اور ان کے ساتھ لیگ سپنر یاسر شاہ بھی شامل ہوں گے۔
بے خوف کرکٹ
بابر اعظم نے اپنی ٹیم کق مثبت اور بے خوف کرکٹ کھیلنے کا مشورہ دیا ہے۔ان کا کہنا تھا ک وہ چاہتے ہیں کہ ان کی ٹیم مثبت اور بے خوف کرکٹ کھیلے۔ قومی ٹیم کے کپتان نے مزید کہا کہ جنوبی افریقہ دنیا کی بہترین ٹیموں میں سے ایک ہے اور اسے شکست دے کر اوپر آنے کے لیے پاکستان کو سخت محنت اور سیریز جیتنے کی ضرورت ہے۔
میزبان ٹیم نے ہوم گراؤنڈ پر جنوبی افریقہ کے خلاف کھیلے گئے پچھلے سات ٹیسٹ میچوں میں سے صرف ایک میں کامیابی حاصل کی ہے جبکہ مہمان ٹیم نے دو میچوں میں کامیابی حاصل کی اور چار میچ بغیر کسی نتیجے کے اختتام پذیر ہوئے ۔ اس سیریز کا دوسرا ٹیسٹ میچ چار فروری سے راولپنڈی میں کھیلا جائے گا۔
سپین باؤلنگ کا اہم کردار
جنوبی افریقہ نے حالیہ ٹیسٹ سیریز میں سری لنکا کو 0-2 سے شکست دی ہے۔ ٹیم کے کپتان کوئنٹن ڈی کاک کا کہنا ہے کہ وہ اس سیریز میں اسپنرز کا کردار انتہائی اہم دیکھ رہے ہیں۔ جنوبی افریقہ کے اس ققت کیشو مہاراج بائیں بازو سے گیند کرنے والے خطرناک تعین سپنرز میں سے ایک ہیں جو کسی بھی وقت میچ کا پانسہ پلٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں تاہم ڈی کاک نے یہ بھی کہا کہ ان کی ٹیم کا کوئی کھلاڑی بھی اس سے قبل پاکستان میں نہیں کھیلا۔ کیویز کے کپتان کا کہنا تھا کہ ان کے لئے سب سے بڑا چیلنج حالات ہیں کیونکہ ہم پاکستان کے موسمی حالات سے یکسر بے خبر ہیں۔ کیویز کو واحد ایڈوانٹیج ان کے کوچ مارک باوچر ہیں جو 1997، 2003 اور 2007 میں پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں۔
ڈی کاک کا کہنا تھا کہ مارک باؤچر اور چند کھلاڑی جو یہاں کھیل چکے ہیں وہ ہمیں یہاں کی کنڈیشن کے بارے بہتر رہنمائی فراہم کر سکتے ہیں۔ 4 فروری سے 8 فروری تک راولپنڈی میں کھیلے جانے والے ٹیسٹ میچ کے بعد دونوں ٹیمیں 11، 13 اور 14 فروری کو تین ٹی ٹونٹی میچز بھی کھیلیں گی۔ کرونا وبا کی وجہ سے تمام میچز شائقین کی عدم موجودگی میں کھیلے جائیں گے۔
پیر، 25 جنوری 2021
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com
