English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کراچی ٹیسٹ: پاکستان 378 رنز پر آؤٹ، پہلی اننگز میں 158 رنز کی برتری

پاکستان کی ٹیم جنوبی افریقہ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ میں 378 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی ہے اور قومی ٹیم نے پہلی اننگز میں 158 رنز کی برتری حاصل کر لی ہے۔

کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے جا رہے سیریز کے پہلے ٹیسٹ میچ کے تیسرے دن پاکستان نے 308 رنز 8 کھلاڑی آؤٹ سے اننگز شروع کی تو حسن علی اور نعمان علی وکٹ پر موجود تھے۔

حسن علی نے دن کی ابتدا میں ہی کچھ ہاتھ دکھائے لیکن کگیسو ربادا نے ان کی وکٹیں بکھیر کے 21 رنز کی اس مختصر اننگز کا خاتمہ کردیا۔

اس وکٹ کے ساتھ ہی ربادا نے ٹیسٹ کرکٹ میں 200 وکٹوں کا سنگ میل بھی عبور کر لیا۔

جنوبی افریقہ کو اُمید تھی کہ اس کے بعد وہ جلد ہی پاکستان کی اننگز کا خاتمہ کردیں گے لیکن یاسر شاہ اور نعمان نے ان کی اس خوش فہمی کو جارحانہ بیٹنگ سے دور کردیا۔

دونوں کھلاڑیوں خصوصاً یاسر شاہ نے عمدہ بیٹنگ کی جس کی بدولت پاکستان کو اپنی برتری کو بڑھانے میں مدد ملی۔

نعمان اور یاسر نے آخری وکٹ کے لیے 55 رنز کی عمدہ شراکت قائم کی اور شراکت کا خاتمہ اس وقت ہوا جب نعمان 24 رنز بنانے کے بعد پویلین لوٹ گئے۔

پاکستان کی پوری ٹیم 378 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی اور پاکستان نے پہلی اننگز میں 158 رنز کی برتری حاصل کرکے میچ پر گرفت مضبوط کر لی، یاسر شاہ 38 رنز بنا کر ناقابل شکست رہے۔

جنوبی افریقہ کی جانب سے کیشپ مہاراج اور کگیسو ربادا نے تین، تین جبکہ اینرج نورجے اور لنگی نگیدی نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں۔

یاد رہے کہ جنوبی افریقہ کی ٹیم میچ کے پہلے دن 220 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی تھی جس کے جواب میں پاکستان کی ٹیم اسی دن 33 رنز پر چار وکٹیں گنوا بیٹھی تھی۔

میچ کے دوسرے دن اظہر علی اور فواد عالم نے عمدہ بیٹنگ کرتے ہوئے پاکستان کی بیٹنگ لائن کو استحکام دیا، اظہر علی 51 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

فواد نے ہوم گراؤنڈ پر بہترین بیٹنگ کرتے ہوئے سنچری اسکور کی جبکہ فہیم اشرف نے 64 اور رضوان نے 33 رنز کے ساتھ ان کا ساتھ نبھایا۔

پاکستان نے میچ کے دوسرے دن 8 وکٹوں کے نقصان پر 308 رنز بنائے تھے۔

جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ میں فواد عالم کی سنچری، پاکستان کو 88 رنز کی برتری حاصل

فواد عالم اور اظہر علی نے دن کے پہلے سیشن میں کوئی وکٹ نہ گرنے دی — فوٹو: اے ایف پی

پاکستان نے جنوبی افریقہ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ میں فواد عالم کی عمدہ سنچری کی بدولت پہلی اننگز میں 88 رنز کی برتری حاصل کر لی۔

کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے جا رہے سیریز کے پہلے ٹیسٹ میچ کے دوسرے دن پاکستان نے اپنی پہلی نامکمل اننگز 33 رنز چار کھلاڑی آؤٹ سے دوبارہ شروع کی۔

دن کے آغاز میں فواد عالم اور اظہر علی، دونوں نے محتاط انداز اپنایا اور ذمے دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے جنوبی افریقی باؤلرز کا ڈٹ کر سامنا کیا۔

پہلے سیشن کے دوران جنوبی افریقہ کو ایک وکٹ لینے کا بھی موقع ملا لیکن وہ اس سے فائدہ نہ اٹھا سکے۔

91 کے مجموعی اسکور پر کیشپ مہاراج کی باؤلنگ پر گیند فواد عالم کے بلے کا باہری کنارہ لیتی ہوئی سلپ میں گئی لیکن ڈین ایلگر کیچ لینے میں ناکام رہے۔

اس کے بعد دونوں کھلاڑیوں نے مہمان ٹیم کو کوئی موقع نہ دیا اور پہلے سیشن میں کوئی بھی وکٹ نہ گرنے دی۔

کھانے کے وقفے کے بعد اظہر علی نے اپنی نصف سنچری مکمل کی لیکن کیشپ مہاراج کی گیند کو کٹ کرنے کی کوشش میں وکٹ کیپر کو کیچ دے بیٹھے۔

اظہر نے آؤٹ سے قبل فواد کے ہمراہ پانچویں وکٹ کے لیے 94 رنز کی شراکت قائم کی۔

دوسرے اینڈ پر فواد عالم ڈٹے رہے اور انہوں نے بھی ففٹی مکمل کرنے کے بعد محمد رضوان کے ہمراہ 55 رنز جوڑے، رضوان 33 رنز بنانے کے بعد لنگی نگیدی کا شکار بنے۔

فواد عالم اور فہیم اشرف نے ٹیم کو خسارے سے نکالتے ہوئے برتری دلا دی اور فواد نے مہاراج کو چھکا لگا کر اپنی تیسری سنچری مکمل کی۔

فواد عالم 109 رنز کی شاندار اننگز کھیلنے کے بعد نگیدی کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوئے۔

تاہم دوسری طرف فہیم اشرف نے ذمہ دارانہ کھیل جاری رکھا اور اپنی نصف سنچری مکمل کی، لیکن 64 رنز پر ان کی اننگز بھی اپنے اختتام کو پہنچی اور یوں پاکستان کو آٹھویں وکٹ کا نقصان اٹھانا پڑا۔

حسن علی 11 اور نعمان علی 6 بنا کر کریز پر موجود ہیں جبکہ مجموعی طور پر پاکستان نے 8 وکٹوں کے نقصان پر 308 رنز بنا کر 88 رنز کی برتری حاصل کر لی ہے۔

واضح رہے کہ جنوبی افریقہ نے میچ کے پہلے دن ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تھا اور پوری ٹیم 220 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی تھی۔

ڈین ایلگر 58 رنز کے ساتھ سب سے کامیاب بلے باز رہے تھے جبکہ جیارج لنڈے نے 35 اور فاف ڈیو پلیسی نے 23 رنز بنائے تھے۔

پاکستان کی جانب سے یاسر شاہ وکٹیں لے کر سب سے کامیاب باؤلر رہے تھے جبکہ پہلا میچ کھیلنے والے نعمان علی اور شاہین شاہ آفریدی نے دو، دو وکٹیں حاصل کی تھیں۔

جواب میں پاکستان کی ٹیم پہلے دن کے اختتام پر 33 رنز پر چار وکٹیں گنوا بیٹھی تھی۔

آؤٹ ہونے والے بلے بازوں میں پہلا میچ کھیلنے والے عمران بٹ، عابد علی، کپتان بابر اعظم اور نائٹ واچ مین شاہین شاہ آفریدی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ جنوبی افریقہ کی ٹیم 14 سال کے طویل عرصے کے بعد پاکستان کا دورہ کررہی ہے جس میں وہ دو ٹیسٹ اور تین ٹی20 میچوں کی سیریز کھیلے گی۔

میچ کے لیے دونوں ٹیمیں ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہیں۔

جنوبی افریقہ: کوئنٹن ڈی کوک (کپتان)، ڈین ایلگر، ایڈن مرکرم، فاف ڈیو پلیسی، راسی وین ڈر ڈوسن، ٹیمبا باووما، جیورج لنڈے، کیشپ مہاراج، کگیسو ربادا، اینرچ نورجے اور لنگی نگیدی

پاکستان: بابر اعظم(کپتان)، عمران بٹ، عابد علی، اظہر علی، فواد عالم، محمد رضوان، فہیم اشرف، حسن علی، نعمان علی، یاسر شاہ اور شاہین شاہ آفریدی

10 سال کھیل کر اتنی عزت نہیں ملتی جتنی اب مل رہی ہے، فواد عالم

فواد عالم نے کہا کہ میں نے ایسے وقت میں سنچری اسکور کی جب ٹیم کو ضرورت تھی— فوٹو: اے پی

کراچی: جنوبی افریقہ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ میں عمدہ سنچری بنانے والے فواد عالم نے کہا ہے کہ میرے 10 سال ضائع نہیں ہوئے بلکہ 10 سال کھیل کر شاید مجھے اتنی عزت نہیں ملتی جتنی اب مل رہی ہے۔

جنوبی افریقہ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ میں جب فواد عالم وکٹ پر آئے تو پاکستان کی ٹیم 27 رنز پر 4 وکٹیں گنوا کر مشکلات سے دوچار تھی۔

ڈومیسٹک کرکٹ میں رنز کے انبار لگانے والے بلے باز نے ذمے دارانہ کھیل پیش کرتے ہوئے ہوم گراؤنڈ پر سنچری اسکور کرکے پاکستان کو مہمان ٹیم کے خلاف اچھی پوزیشن میں پہنچا دیا۔

فواد عالم نے بدھ کو نیشنل اسٹیڈیم میں آن لائن پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز ہمارے چار بیٹسمین آؤٹ ہوگئے تھے جس کی وجہ سے کوشش تھی کہ زیادہ دیر تک وکٹ پر ٹھہروں تاکہ اسکور بورڈ پر زیادہ سے زیادہ رنز آ سکیں۔

انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش تھی کہ جنوبی افریقہ کے اسکور کے جتنا نزدیک پہنچا سکے اتنا اچھا ہوگا تاکہ چوتھی اننگز میں ہمیں زیادہ رنز نہ بنانے پڑیں، ہماری کوشش جنوبی افریقہ کی لیڈ کم کرنے کی تھی لیکن اب ہم نے لیڈ حاصل کرلی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک کی جانب سے کھیلتے ہوئے سنچری بنانا خواب ہوتا ہے اور ایسے موقع پر سنچری بنانا جب ٹیم کو ضرورت ہو، اسی لیے مجھے بہت زیادہ خوشی ہے کہ میں نے ایسے وقت میں سنچری اسکور کی جب ٹیم کو ضرورت تھی۔

کیریئر کی تیسری سنچری بنانے والے بلے باز نے کہا کہ پاکستان بالخصوص کراچی میں یہ میرا پہلا ٹیسٹ میچ تھا، میری دو اننگز انگلینڈ میں خراب ہوئی تھیں اس کے باوجود مجھے ٹیم سے باہر نہیں کیا گیا اور مجھے نیوزی لینڈ میں بھی چانس دیا گیا، اس لیے میرا خیال ہے کہ مجھے مینجمنٹ کی جانب سے بہت اچھی سپورٹ مل رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مصباح الحق کی جانب سے مجھے بہت اعتماد ملا ہے، مینجمنٹ کی سپورٹ کھلاڑیوں کو زیادہ اعتماد فراہم کرتی ہے اور سپورٹ ملنے کے بعد کوشش ہوتی ہے کہ تمام باتوں کو چھوڑ کر اپنی بہترین پرفارمنس دینے کی کوشش کروں تاکہ کارکردگی اچھی ہوجائے۔

اس موقع پر انہوں نے بیٹنگ کوچ یونس خان کی بھی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یونس خان بیٹسمینوں کو بہت زیادہ اعتماد دیتے ہیں، یونس خان کی عادت ہے کہ وہ پہلے بیٹسمینوں کو سنتے ہیں پھر ٹپس دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بیٹنگ میں جہاں ہمیں مسئلہ ہوتا ہے، ہم یونس خان سے رابطہ کرتے ہیں اور وہ اس کا حل بتاتے ہیں، یونس خان بیٹسمینوں کو انہی کی طرح سمجھاتے ہیں، جس کی وجہ سے کم سے کم مجھے ضرور فائدہ ہوتا ہے۔

کیریئر کے 10سال ضائع ہونے کے بارے میں سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جو نصیب میں ہوتا ہے وہی ملتا ہے، میں نے ڈومیسٹک سیزن میں بہت رنز کیے ہیں، میرے دس سال ضائع نہیں ہوئے، 10سال کھیل کر شاید مجھے اتنی عزت نہیں ملتی جتنی اب مل رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میرے نصیب میں نہیں تھا اس لیے پہلے موقع نہیں ملا، کبھی یہ نہیں سوچا کہ دس سال ہو گئے اور کسی کو اس کے لیے الزام نہیں دوں گا۔

سنچری کے بعد جشن منانے کے انداز کے حوالے سے فواد عالم نے مشہور ترک ڈرامے ارطغرل غازی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ارطغرل جیت کے بعد گھوڑا اٹھاتا ہے اسی لیے اس طرح سے جشن منایا۔

منبع: ڈان نیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے